
تصویر محمد تسلیم
نئی دہلی: عید میلاد النبیؐ کے موقع پر دہلی کے مختلف علاقوں میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کیا گیا۔ مرکزی انجمن عید میلاد النبیؐ کی جانب سے روایتی انداز میں دہلی کا بڑا جلوس نکالا گیا، جبکہ مشرقی، شمال مشرقی اور مغربی دہلی کے مختلف علاقوں میں بھی مساجد، مدارس اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے جلوسِ محمدیؐ برآمد ہوئے۔ اس دوران نعت خوانی، صلوٰۃ و سلام، سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر خطابات اور لنگر و سبیل کا اہتمام کیا گیا۔
مرکزی انجمن عید میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل منعقدہ تقریب میں سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی اور رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ؐ کی سیرت و تعلیمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے، جو گزشتہ 25 برس سے اس جلوس میں شرکت کرتے آ رہے ہیں، اپنے خطاب میں کہا کہ پیغمبر اسلام ؐ کی زندگی ہی آپ کا پیغام ہے۔ لوگ آپ ؐ کی سچائی اور امانت داری کے قائل تھے اور آپ کے دشمن بھی اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھ جاتے تھے۔ آپ ؐ نے کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہونے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کی تعلیم دی۔
انہوں نے صبر و عفو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس شہر کے لوگوں نے آپ ؐ پر پتھر برسائے، آپ ؐ نے ان کے لیے بھی دعا کی، جبکہ فتح مکہ کے موقع پر جب آپ ؐ کے پاس مکمل اقتدار تھا تو آپ نے اپنے مخالفین کو معاف کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ؐ نے صبر، سچائی اور انسانیت کی راہ دکھائی اور ہمیں بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔ ان کے مطابق، شاید ہم دنیا تک پیغمبر اسلام ؐ کے پیغام اور آپ کے عملی نمونے کو مطلوبہ انداز میں پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
دہلی کی گنگا جمنی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے وجیندر گپتا نے کہا کہ یہ دہلی کی حقیقی تصویر اور ہمارے شہر کا پیغام ہے۔ یہاں اذان سنی جاتی ہے اور نماز ادا کی جاتی ہے، وہیں قریب ہی مندر کی گھنٹیاں بھی گونجتی ہیں۔ عید کے موقع پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں، جبکہ دیوالی کے موقع پر بھی اسی طرح کا جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہماری ثقافت، ہمارے سنسکار اور ہماری تہذیب ہے۔
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام ڈاکٹر عمیر الیاسی نے جشنِ ولادت کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں معبودِ حقیقی کی عبادت کرتے ہیں۔ دہلی کے سابق میئر جے پرکاش نے کہا کہ پیغمبر اسلام ؐ کا پیغام محبت کا تھا اور آپ کے چاہنے والوں کو اس پیغام کو عام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس مقام پر تقریب منعقد ہوئی، وہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے، جہاں مختلف مذاہب کے جلوس نکلتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔
مقامی رکن اسمبلی عمران حسین نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک بوڑھی خاتون آپ ؐ پر کوڑا ڈالتی تھی، لیکن آپ ؐ نے کبھی اس پر ناراضی کا اظہار نہیں کیا۔ ایک روز جب اس خاتون نے کوڑا نہیں ڈالا تو آپ ؐ نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے تو آپ ؐ نے اس کی عیادت کی، جس سے متاثر ہوکر وہ آپ ؐ کی تعلیمات سے وابستہ ہوگئی۔ سابق کونسلر عمران اسماعیل نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ عہد کریں کہ ہر روز کسی نہ کسی حدیث پر عمل کرکے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔
تقریب کا آغاز کرتے ہوئے قاری عبدالقادر رضوی نے کہا کہ میلاد کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے عشقِ رسول ؐ کا اظہار اپنی زندگی کو آپ ؐ کی زندگی کا نمونہ بنا کر کرے۔ آپ ؐ کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے معاشرے میں بھلائی کو فروغ دینا ہی سیرتِ طیبہ سے حقیقی وابستگی کا تقاضا ہے۔ اس موقع پر انجمن کے صدر حاجی محمد احمد، جلوس کے کنوینر حاجی شمیم قریشی، نائب صدر مہربان قریشی، فرزان قریشی، جان عالم، سید اسلم اور دیگر اراکین نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ نظامت کے فرائض ساجد رضا نے انجام دیے۔ صلوٰۃ و سلام اور دعا کے بعد جلوس روانہ ہوا۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمنا پار کے مختلف علاقوں میں بھی روحانی اور مذہبی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت سے فضا گونجتی رہی۔ مشرقی، شمال مشرقی اور مغربی دہلی کی مساجد و مدارس اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے نکالے گئے جلوسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مختلف مقامات پر لنگر اور سبیل کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں بلا تفریق مذہب و ملت لوگوں نے استفادہ کیا۔ علمائے کرام اور سیاسی نمائندوں نے اپنے خطابات میں پیغمبر اسلام ؐ کے امن، محبت، رواداری اور انسانیت کے پیغامات کو اجاگر کیا۔
جمنا پار کے جعفرآباد، سیلم پور، برہم پوری، جنتا کالونی، ویلکم، شاستری پارک، کانتی نگر، سیما پوری، سندر نگری، کبیر نگر، مصطفیٰ آباد، شری رام کالونی، کھجوری، خوریجی، وجے پارک، نور الٰہی، وزیر آباد، سنگم وہار، بھلسوا ڈیری، جہانگیر پوری، بھگوان پورہ اور دیگر علاقوں میں جلوسِ محمدیؐ شان و شوکت کے ساتھ نکالے گئے۔ جلوسوں میں طلبہ اور ثنا خواں بارگاہِ رسالت ؐ میں گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے، جبکہ علما نے ولادتِ باسعادت اور سیرتِ طیبہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔
ویلکم کی مصطفیٰ جامع مسجد اور مسجد نورالنبی کے جلوس مخصوص راستوں سے ہوتے ہوئے اپنے مقامات پر اختتام پذیر ہوئے۔ جامعۃ البرکات خورشید العلوم ویلکم کا جلوس مہتمم قاری محمد الیاس برکاتی اور مفتی فرحان امجدی کی قیادت میں نکالا گیا۔ رضا ایجوکیشنل موومنٹ اور مدرسہ ضیاء القرآن جنتا کالونی کا جلوس ظہیر احمد انصاری اور محمد ادریس کی سرپرستی میں نکلا، جو جنتا کالونی سے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا مدرسے پر اختتام پذیر ہوا۔
مدرسہ فیضان تاج الشریعہ، مدرسہ قادریہ، مدرسہ فیضان غوث اعظم جنتا کالونی، جامع مسجد کردم پوری اور دارالعلوم ندائے حق نوریہ احمدیہ بھلسوا ڈیری سمیت مختلف اداروں کی جانب سے بھی جلوس نکالے گئے۔ شاستری پارک میں جلوسِ محمدی کمیٹی قادری مسجد جمعیۃ المنصور کی جانب سے جلوس نکالا گیا، جس کی قیادت مفتی اشفاق حسین قادری نے کی۔
نور الٰہی سے گھونڈا چوک، برہم پوری، سیلم پور، جعفرآباد، موج پور اور وجے پارک تک جانے والے جلوس میں مختلف مساجد و مدارس کے ائمہ اور ذمہ داران شریک ہوئے۔ قادری مسجد، رضا مسجد چوہان بانگر، مسجد اعلیٰ حضرت برہم پوری، مسجد غریب نواز، مبارک مسجد، غوثیہ مسجد اور مدرسہ گلشن اسلام کے جلوس بھی اس میں شامل ہوئے۔ علما نے شرکا کی رہنمائی کرتے ہوئے سیرتِ رسول ؐ کے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا۔
دارالعلوم نظامیہ شکور پور کا جلوس بھی گزشتہ برسوں کی طرح اس سال نہایت آب و تاب کے ساتھ نکالا گیا، جس کی قیادت ادارے کے پرنسپل قاری اسرار احمد قادری نے کی۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان کو کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ خوشی کا اظہار کرتا ہے، تو پھر جس ذاتِ اقدس کے صدقے میں تمام نعمتیں عطا ہوئیں، اس کی ولادتِ باسعادت پر خوشی کا اظہار کیوں نہ کیا جائے۔
مغربی دہلی میں بھی مختلف مساجد و مدارس کے زیر اہتمام بڑا جلوس نکالا گیا۔ یونائٹڈ عید میلاد النبی ٹرسٹ کی نگرانی میں نکالے گئے جلوس میں اہل سنت کے ائمہ، اساتذہ اور ذمہ داران نے شرکت کی۔ جلوس علما کرام اور سرکردہ شخصیات کے کلمات، صلوٰۃ و سلام اور دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
دہلی سے متصل نوئیڈا کے سیکٹر 63 میں بھی جلوسِ محمدی ؐ نکالا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ چوٹ پور، چھجارسی اور اطراف کی مختلف مساجد کے ائمہ اور اراکین جلوس میں شریک ہوئے۔ پولیس انتظامیہ کی نگرانی میں جلوس اشرفیہ مسجد سے رضا مسجد، ازہری مسجد اور غوثیہ مسجد سے ہوتا ہوا دوبارہ اشرفیہ مسجد پہنچا، جہاں صلوٰۃ و سلام اور دعا کے ساتھ اختتام عمل میں آیا۔
مجموعی طور پر عید میلاد النبیؐ کے موقع پر دہلی اور اس کے اطراف میں منعقدہ تقریبات اور جلوسوں میں مذہبی عقیدت کے ساتھ امن، محبت، رواداری، انسانی ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو نمایاں کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں لوگوں کی بڑی شرکت نے جشنِ میلاد کے حوالے سے جوش و خروش کی عکاسی کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: پریس ریلیز