قومی خبریں

مراٹھا ریزرویشن: منوج جرانگے پاٹل کو ممبئی میں داخلے سے روکنے کی کوششیں تیز، پولیس عملہ سرگرم

مراٹھا ریزرویشن کے پرچم بردار منوج جرانگے پاٹل اپنے ساتھیوں کے ساتھ ممبئی کے قریب لوناولہ پہنچ چکے ہیں، لیکن وہاں پر پولیس نے زبردست ناکہ بندی کرتے ہوئے مارچ کو روک دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>منوج جرانگے پاٹل، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

منوج جرانگے پاٹل، تصویر سوشل میڈیا

 

ممبئی: مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کے ساتھ اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ ممبئی کی جانب نکلے منوج جرانگے پاٹل لوناولہ پہنچ چکے ہیں۔ وہاں سے وہ ممبئی پونے ایکسپریس وے کے ذریعے ممبئی پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے ممبئی پہنچنے سے قبل ہی پولیس نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے لوناولہ میں ممبئی-پونے ایکسپریس وے پر داخلے اور باہر نکلنے کے دونوں راستوں پر سخت حفاظتی پہرہ لگا دیا ہے۔

Published: undefined

اس ناکہ بندی میں ریپیڈ ایکشن فورس اور بم ڈسپوژل اسکواڈ بھی شامل ہیں۔ اس حفاظتی پہرے کی وجہ سے یہ امکان ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن کے لیے منوج جرانگے کے ساتھ آنے والوں کو ممبئی-پونے ایکسپریس وے پر پیدل چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ اس سے قبل انہیں ممبئی-پونے ایکسپریس وے سے جانے کی اجازت مل چکی ہے۔ اس کے لیے ایکسپریس وے پر جگہ جگہ بڑے پیمانے پر پولیس فورس کو تعینات بھی کر دیا گیا تھا۔ اس لیے اب مراٹھا ریزرویشن کے پرچم بردار جرانگے پاٹل کا یہ مارچ کس راستے سے ممبئی میں داخل ہوگا، یہ دیکھنا اہم ہوگا۔

Published: undefined

منوج جرانگے پاٹل کے اس مارچ کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ دیر رات گئے ممبئی کے قریب پہنچ جائے گا۔ اس مارچ سے ممبئی میں غیرمعمولی صورت حال پیدا ہو سکتے ہیں اور اسی کے پیشِ نظر حکومت کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ لیکن اس دوران خبر یہ بھی ہے کہ سمبھاجی نگر کے کمشنر مدھوکر راجے مراٹھا ریزرویشن کے لیے تحریک چلا رہے جرانگے پاٹل کو سمجھانے کے مقصد سے لوناولہ پہنچے ہوئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے بارے میں بھی یہ خبر ہے کہ وہ فون پر جرانگے پاٹل سے بات کرسکتے ہیں۔ اس لیے اس بات کا امکان ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ منوج جرانگے پاٹل کے مارچ کو ممبئی میں داخل ہونے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined