
تصویر: ای ڈی / آئی اے این ایس
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعہ کے روز مغربی بنگال میں کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ ان میں کولکاتا کے سابق ڈی سی پی شانتنو سنہا بسواس کا گھر بھی شامل ہے۔ یہ چھاپے سونا پپو اور شانتنو سنہا سے جڑے مبینہ وصولی ریکیٹ کی جانچ کے سلسلے میں مارے گئے ہیں۔
Published: undefined
کولکاتا کے کالی گھاٹ پولیس اسٹیشن کے سابق آئی سی اور ڈی سی شانتنو سنہا بسواس زمین اور مالی معاملات سے متعلق ایک کیس میں ای ڈی کی تحویل میں ہیں۔ شانتنو سنہا بسواس کا مرشد آباد کے کانڈی میں ایک محل نما گھر ہے۔ ان کا آبائی گھر کانڈی میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 8 میں واقع ہے، لیکن یہ گھر گزشتہ 7 دنوں سے بند ہے۔ شانتنو سنہا بسواس کی بہن گوری سنہا بسواس کانڈی میونسپلٹی کی نائب چیئرپرسن ہیں۔ وہ بھی اس وقت گھر میں موجود نہیں ہیں۔ تاہم، گھر بند ہونے کے باعث ای ڈی کے افسران باہر سے ہی جانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے بھی بات چیت کی۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ کانڈی واقع شانتنو سنہا کا آبائی گھر کئی دنوں سے بند تھا۔ ای ڈی افسران کی ایک ٹیم وہاں پہنچی، تالا توڑا اور گھر کے اندر داخل ہو گئی۔ مرکزی فورس کے اہلکاروں نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ رپورٹس کے طمابق 8 سے 10 افسران کی ایک ٹیم نے گھر کے اندر جانچ اور تلاشی مہم چلائی۔ اس واقعہ کے بعد صبح سے ہی علاقے میں کافی ہلچل اور بھیڑ بھاڑ دیکھی گئی۔
Published: undefined
افسران کے مطابق شانتنو کو 14 مئی کو ای ڈی نے حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران تعاون نہیں کیا اور معلومات چھپائیں۔ کئی مرتبہ سمن (طلبی نوٹس) ملنے کے باوجود پیش نہ ہونے کے بعد وہ آخرکار کولکاتا میں ایجنسی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ پوڈر عرف سونا پپو کو 18 مئی کو طویل پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ پوڈر، جو جنوبی کولکاتا میں پیش آئے ایک پرتشدد واقعہ کے سلسلے میں بھی مطلوب تھا، تقریباً 3 ماہ سے مفرور چل رہا تھا۔ یہ معاملہ سونا پپو کے خلاف کولکاتا پولیس کی درج کردہ ایک ایف آئی آر پر مبنی ہے۔ اس پر بھتہ خوری، فساد بھڑکانے، قتل کی کوشش، مجرمانہ سازش اور آرمز ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی سمیت کئی الزامات عائد ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined