
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے عین قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہفتہ (11 اپریل) کو سابق وزیر تعلیم پارتھ چٹرجی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی جنوبی کولکاتہ کے نکتلا میں ان کے واقع ان کی رہائش پر کی گئی۔ ہفتہ کی صبح بھاری سیکورٹی فورسز کے ساتھ ای ڈی کی ٹیم نکتلا پہنچی۔ مانا جا رہا ہے کہ اسکول ٹیچر بھرتی گھوٹالہ کے معاملے میں انتخاب سے قبل ان سے دوبارہ پوچھ تاچھ کی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ضمانت ملنے کے بعد ای ڈی نے انہیں کئی بار پوچھ تاچھ کے لیے بلایا تھا، لیکن الزام ہے کہ وہ ہر بار بیماری کا حوالہ دے کر پیش ہونے سے بچتے رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی وجہ سے اس بار ای ڈی کی ٹیم خود ان کے گھر پہنچی ہے تاکہ براہ راست ان سے پوچھ تاچھ کی جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پارتھ چٹرجی نے ای ڈی سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور ضرورت پڑنے پر ویڈیو کال کے ذریعہ یا گھر پر ہی پوچھ تاچھ کی جا سکتی ہے۔ اسی درمیان ای ڈی کی ایک دوسری ٹیم نے نیو ٹاؤن میں پرسننا رائے کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا۔ پرسننا رائے اس بھرتی گھوٹالے میں ’مِڈل مین‘ کے طور پر ملزم ہیں۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 11 بجے ای ڈی کی ٹیم ان کے آفس پہنچی۔
Published: undefined
پارتھ چٹرجی کو جولائی 2022 میں اس مشہور ایس ایس سی ٹیچر بھرتی گھوٹالہ میں مبینہ کردار کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے روز ای ڈی نے ان کی قریبی ارپیتا مکھرجی کے گھر سے تقریباً 20 کروڑ روپے برآمد کیے تھے۔ ارپیتا مکھرجی کو بھی اس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، حالانکہ انہیں 2024 میں ضمانت مل گئی تھی۔ ستمبر 2025 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے پارتھ چٹرجی کو ضمانت دے دی تھی۔ حالانکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی وجہ سے ان کی رہائی فوری طور پر نہیں ہو پائی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے ذریعہ گواہوں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی انہیں رہا کیا جائے۔ اس کے بعد 11 نومبر کو انہیں عدالتی حراست سے رہا کیا گیا۔
Published: undefined
دوسری جانب اس معاملہ میں ریاستی وزیر اور ٹی ایم سی لیڈر سُجیت بوس کے بیٹے سمدر بوس بھی ای ڈی کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے سالٹ لیک میں واقع سی جی او کمپلیکس میں پوچھ تاچھ کے لیے حاضری دی۔ بھرتی گھوٹالے کو لے کر ای ڈی کی کارروائی مسلسل جاری ہے اور انتخاب سے قبل اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں بحث تیز کر دی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined