قومی خبریں

پی اے سی ایل گھوٹالہ: ای ڈی نے عارضی طور پر ضبط کیں 1986 کروڑ روپے کی 37 جائیدادیں

ای ڈی نے پی اے سی ایل گھوٹالے میں پی ایم ایل اے کے تحت 1986 کروڑ روپے کی 37 جائیدادیں عارضی طور پر ضبط کر لیں۔ یہ کارروائی سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی، مزید جانچ جاری ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر: ای ڈی / آئی اے این ایس</p></div>

تصویر: ای ڈی / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: پی اے سی ایل لمیٹڈ اور اس سے وابستہ اداروں کے ذریعے چلائی گئی اجتماعی سرمایہ کاری اسکیم سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 1986.48 کروڑ روپے مالیت کی 37 غیر منقولہ جائیدادیں عارضی طور پر ضبط کر لی ہیں۔ یہ کارروائی ای ڈی کے دہلی زونل دفتر–2 کی جانب سے کی گئی، جو پی ایم ایل اے 2002 کے تحت انجام دی گئی۔ ضبط شدہ جائیدادیں پنجاب کے لدھیانہ اور راجستھان کے جے پور میں واقع ہیں۔ ای ڈی نے پیر کے روز جاری کردہ پریس نوٹ میں اس کارروائی کی تفصیلات فراہم کیں۔

Published: undefined

ای ڈی کے مطابق یہ کارروائی سی بی آئی، نئی دہلی کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی، جس میں بھارتی تعزیرات ہند 1860 کی دفعات 120-بی اور 420 کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ان دفعات کے تحت مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ای ڈی نے اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کیں، جن میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاروں کے ساتھ فریب کا انکشاف ہوا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پی اے سی ایل اور اس سے جڑی کمپنیوں نے غیر قانونی اجتماعی سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعے ملک بھر کے لاکھوں افراد سے ساٹھ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جمع کی۔ سرمایہ کاروں کو زرعی زمین کی خرید و فروخت اور ترقی کے نام پر کیش ڈاؤن پیمنٹ اور قسطوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا گیا۔ ان سے مختلف قسم کے گمراہ کن معاہدوں، پاور آف اٹارنی اور دیگر کاغذات پر دستخط کرائے گئے، جن کے ذریعے انہیں زمین کی ملکیت کا تاثر دیا گیا۔

Published: undefined

ای ڈی کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ بیشتر معاملات میں سرمایہ کاروں کو نہ تو زمین فراہم کی گئی اور نہ ہی ان کی جمع کردہ رقم واپس کی گئی۔ اندازوں کے مطابق تقریباً اڑتالیس ہزار کروڑ روپے کی رقم اب بھی سرمایہ کاروں کو واپس کیا جانا باقی ہے۔ دھوکہ دہی کو چھپانے کے لیے کئی فرنٹ کمپنیوں اور ریورس سیل لین دین کا سہارا لیا گیا۔

تحقیقات کے مطابق سرمایہ کاروں سے جمع کی گئی رقم کو مختلف متعلقہ اور غیر متعلقہ کمپنیوں کے ذریعے گھمایا گیا اور بالآخر مرحوم نرمل سنگھ بھنگو، ان کے اہل خانہ، قریبی ساتھیوں اور پی اے سی ایل سے جڑے اداروں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیا گیا۔ بعد میں اسی رقم سے ان کے نام پر قیمتی جائیدادیں خریدی گئیں۔

Published: undefined

اس معاملے میں مرحوم نرمل سنگھ بھنگو کی اہلیہ پریم کور، بیٹیاں بریندر کور اور سکھویندر کور، داماد گرپرتاپ سنگھ اور قریبی ساتھی پرتیک کمار کے خلاف کھلے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ ای ڈی نے سال 2016 میں ای سی آئی آر درج کی، 2018 میں استغاثہ شکایت دائر کی اور 2022 و 2025 میں اضافی شکایات داخل کیں، جن پر خصوصی عدالت نے نوٹس لے لیا ہے۔ ای ڈی کے مطابق اب تک ملک اور بیرون ملک واقع تقریباً 7589 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined