
آئی اے این ایس
گجرات کے کچھ خطے میں جمعہ کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے مقامی آبادی میں کچھ دیر کے لیے تشویش پھیل گئی۔ زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 10 کلو میٹر گہرائی میں واقع تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے، تاہم انتظامیہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
Published: undefined
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلہ علی الصبح تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر آیا۔ چونکہ زلزلے کی گہرائی کم تھی، اس لیے نسبتاً کم شدت کے باوجود جھٹکے واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ کئی علاقوں میں لوگ نیند سے جاگ گئے اور احتیاطاً گھروں سے باہر نکل آئے۔ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا اور کسی ہنگامی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق گجرات کا کچھ علاقہ زلزلہ خیزی کے اعتبار سے نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔ یہ خطہ زلزلہ زون پانچ میں شامل ہے، جو ہندوستان میں سب سے زیادہ خطرناک اور بلند خطرے والا زون مانا جاتا ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں شدید زلزلے آ چکے ہیں، اسی وجہ سے یہاں عمارتوں کے ڈھانچوں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے خصوصی احتیاطی ضوابط پر زور دیا جاتا ہے۔
Published: undefined
اسی ہفتے ملک کے دیگر حصوں میں بھی زلزلے کی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ جمعرات کے روز آسام کے اُدالگڑی ضلع میں زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی شدت 3.0 تھی اور اس کا مرکز 19 کلو میٹر گہرائی میں تھا۔ بدھ کے روز خلیجِ بنگال، راجستھان اور سکّّم کے کچھ علاقوں میں بھی زلزلے محسوس کیے گئے۔ خلیجِ بنگال میں زلزلے کی شدت 4.2، سکّّم کے گانگ ٹوک میں 3.3 اور منگن میں 3.0 ریکارڈ کی گئی، جبکہ راجستھان کے جالور میں 3.4 شدت کا زلزلہ 5 کلو میٹر کی گہرائی میں آیا۔
ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ کم شدت کے زلزلے زمین کے اندر توانائی کے اخراج کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم زلزلہ حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی اور عوامی آگاہی بے حد ضروری ہے تاکہ کسی بڑے قدرتی واقعے کی صورت میں نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined