قومی خبریں

ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع میں زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 4.3 تھی

ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع میں جمعہ کی رات 4.3 شدت کا زلزلہ آیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع میں جمعہ کی رات 10:04 بجے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز دھرم شالہ سے تقریباً 18 کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا گیا ہے۔

Published: undefined

زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ کئی علاقوں میں چند سیکنڈ کے لیے زمین ہل گئی جس سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔ رات گئے تک لوگوں کو کھلی جگہوں پر کھڑے دیکھا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلے کا اثر صرف کانگڑا تک محدود نہیں تھا۔ آس پاس کے کئی اضلاع اور ریاستوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

Published: undefined

چمبا، ڈلہوزی، بھرمور اور ہولی کے علاقے میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ ہریانہ کے پنچکولہ، چندی گڑھ اور آس پاس کے علاقوں میں بھی لوگوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق  عینی شاہدین نے بتایا کہ رات کے وقت اچانک پنکھے اور دیگر اشیاء لرزنے لگیں جس سے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر زلزلے کے اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔

Published: undefined

اطمینان بخش بات یہ ہے کہ کسی کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی انتظامیہ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے زلزلے کے بعد صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم تفصیلی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اداروں کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے ہوشیار رہنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

Published: undefined

ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطہ زلزلہ کے لحاظ سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور آس پاس کے علاقوں میں اکثر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ سائنسدان اس خطے میں زلزلہ کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined