
تصویر/آئی اے این ایس
مرکزی حکومت کے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈی او ٹی) نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کے لیے 9 سم کی مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز نہ ہونے دیں۔ یہ اطلاع جمعرات کو جاری ایک سرکاری بیان میں دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 24 اگست 2026 سے ٹی ایس پی (ٹیلی کام سروس پرووائیڈر) ایسے ہر صارف کی شناخت کے لیے ضروری تکنیکی اور تنظیمی اقدامات کریں گے جو مقررہ حد سے زیادہ موبائل کنکشن لینا چاہتا ہے۔ اسے مطلع کیا جائے گا کہ اس کے نام پر پہلے ہی کسی فرد کے لیے اجازت شدہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں موبائل کنکشن موجود ہیں، اس لیے اسے نیا موبائل کنکشن نہیں دیا جا سکتا۔
ان ہدایات کے تحت صارفین کو ’کسٹمر ایپلی کیشن فارم‘ (سی اے ایف) میں یہ معلومات دینی ہوں گی کہ مختلف ٹیلی کام آپریٹروں اور لائسنس یافتہ سروس ایریا میں ان کے نام پر پہلے سے کون کون سے موبائل کنکشن موجود ہیں۔ ڈی او ٹی کے سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ جن صارفین کے نام پر مقررہ حد سے زیادہ موبائل کنکشن ہیں، ان کی معلومات محکمہ کی جانب سے تیار کیے گئے ’ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم‘ (ڈی آئی پی) پر دستیاب ہے۔
ڈی او ٹی نے ٹیلی کام آپریٹروں کی مدد کے لیے یہ نظام تیار کیا ہے، تاکہ وہ ایسے صارفین کی شناخت کر سکیں جن کے نام پر موبائل کنکشن کی مقررہ حد پوری ہو چکی ہے۔ ڈی آئی پی مختلف ٹیلی کام کمپنیوں سے حاصل ہونے والی صارفین کی معلومات کا استعمال کرتا ہے۔ یہ معلومات ٹیلی کام کمپنیوں کو ایسے صارفین کی شناخت میں مدد دیتی ہے، جنہوں نے 9 سم کارڈ کی زیادہ سے زیادہ حد پار کر لی ہے۔
سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’جب تک ٹیلی کام سروس پرووائیڈر کسٹمر ایپلی کیشن فارم (سی اے ایف) کی شرائط کی بنیاد پر ایسے اقدامات نافذ نہیں کرتے، اس وقت تک مقررہ حد سے زیادہ فعال کیے گئے کسی بھی موبائل کنکشن کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی، جب تک موبائل کنکشن کی مقررہ حد سے تجاوز سے متعلق معاملہ حل نہیں ہو جاتا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔