قومی خبریں

’8 دنوں تک ٹفن میں پیاز، لہسن، آلو، نان ویج نہ لائیں‘، اسکول نے جاری کیا حیرت انگیز فرمان، سنجے راؤت حملہ آور

ایم این ایس عہدیدار سچن پوکلے نے اسکول کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اسکول سے منسلک رکن اسمبلی نریندر مہتا جین طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے جین رواج تھوپے جا رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

ملک میں بڑھتے مذہبی منافرت کا عکس اب اسکولوں میں بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگا ہے۔ اس کی تازہ مثال مہاراشٹر میں ممبئی سے ملحق بھایندر واقع ’7 اسکوائر اسکول‘ میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس اسکول کے ذریعہ ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے، جس نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ جین طبقہ کے 8 روزہ ’پریوشن‘ تہوار کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسکول کی طرف سے طلبا کو لنچ باکس، یعنی ٹفن میں نان ویج نہ لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، بچوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پیاز، لہسن، آلو، چکندر اور زیر زمین اُگنے والی دیگر سبزیاں بھی ٹفن میں نہ لائیں۔ میرا روڈ ایسٹ واقع سی بی ایس ای سے منسلک اسکول کی طرف سے پورٹل پر یہ سرکلر جاری کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکول میں الگ الگ طبقات کے بچے پڑھتے ہیں۔ ایسی صورت میں سرکلر سے ہنگامہ برپا ہونا لازمی تھا۔ سرکلر منظر عام پر آنے کے بعد کئی طرح کے سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی کاص مذہبی تہوار کے دوران سبھی طلبا کو کھانے پینے سے متعلق خاص ہدایات جاری کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس معاملہ میں شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

سنجے راؤت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’میرا روڈ (ٹھانے) واقع 7 اسکوائر اکادمی اسکول نے اپنے پورٹل اور واٹس ایپ گروپ کے ذریعہ سرپرستوں کو ایک سرکلر بھیجا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پریوشن تہوار کے دوران، یعنی 8 ستمبر سے 16 ستمبر تک طلبا اپنے ٹفن میں پیاز، لہسن، آلو، چکندر جیسے زمین کے اندر اُگنے والی سبزیاں نہ لائیں۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’بتایا جا رہا ہے یہ اسکول بی جے پی رکن اسمبلی نریندر مہتا سے منسلک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دیویندر فڑنویس کی کابینہ میں خود کو ہندو مذہب کا ٹھیکیدار بتانے والے لوگوں کو مہاراشٹر کے مذہب اور اس کی متنوع ثقافت پر اس طرح کی مداخلت منظور ہے؟‘‘

اسکول کے سرکلر پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ یہ معاملہ ’لو جہاد‘ سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ کیا اب ممبئی میں مراٹھی شخص کو رہنا ہے یا نہیں، یہ بھی یہی لوگ طے کریں گے؟ ممبئی میں کون کیا کھائے گا اور کیا نہیں کھائے گا، اس کا فیصلہ بھی اب چند لوگ کریں گے؟ شیوسینا یو بی ٹی لیڈر نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا ممبئی کے ’گنپتی اُتسو‘ پر بھی اسی طرح کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہوگی؟ 106 مراٹھی لوگوں کی قربانی سے حاصل کیے گئے مہاراشٹر کو کیا اب نیلامی کے لیے رکھ دیا گیا ہے؟

قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے بھی اس معاملہ میں اپنی مخالفت ظاہر کی ہے۔ ایم این ایس عہدیدار سچن پوکلے نے اسکول کے خلاف شکایت بھی درج کرائی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسکول سے منسلک رکن اسمبلی نریندر مہتا جین طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس وجہ سے طلبا پر مذہبی رسوم و رواج تھوپے جا رہے ہیں۔ پوکلے نے شہری ایجوکیشن افسر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملہ میں اسکول کے خلاف کارروائی کی جائے۔ شکایت میں شرکلر سے متعلق اسکول کے کردار کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔