قومی خبریں

اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج پیش کرنے والی سبھی عرضیاں خارج، دہلی ہائی کورٹ نے مطالبہ کو ناجائز ٹھہرایا

مرکزی حکومت نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم ڈیفنس ریکروٹنمنٹ میں سب سے بڑی پالیسی پر مبنی تبدیلیوں میں سے ایک ہے، فوج میں بھرتی کے عمل میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج کرنے والی سبھی عرضیاں دہلی ہائی کورٹ نے خارج کر دی ہیں۔ عدالت نے عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ "اس اسکیم کو لانے کا مقصد ہماری افواج کو بہتر طریقے سے تیار کرنے کا ہے اور یہ ملک کے مفاد میں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن عرضیوں میں پرانی پالیسی کی بنیاد پر تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا، عدالت نے ان کے مطالبات کو بھی یہ کہتے ہوئے خارج کیا کہ مطالبہ جائز نہیں ہے۔

Published: undefined

دراصل ملک کے الگ الگ حصوں میں اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج دیتے ہوئے عرضیاں داخل کی گئی تھیں اور پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سبھی معاملوں کی سماعت دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کر دی تھیں۔ آج دہلی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور سبرامنیم پرساد کی بنچ نے داخل عرضیوں پر فیصلہ سنایا۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگنی پتھ اسکیم ڈیفنس ریکروٹنمنٹ میں سب سے بڑی پالیسی پر مبنی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ فوج میں بھرتی کے عمل میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سبرامنیم پرساد کی ڈویژنل بنچ نے 15 دسمبر کو اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا۔ دراصل مسلح افواج میں نوجوانوں کی بھرتی گزشتہ سال 14 جون سے شروع کی گئی تھی۔ اس منصوبہ میں نوجوانوں کو چار سال کے لیے فوج میں شامل کیا جائے گا۔ اس معاملے میں عرضی دہندگان کا کہنا تھا کہ 75 فیصد امیدوار چار سال بعد بے روزگار ہو جائیں گے اور ان کے لیے کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے۔

Published: undefined

عدالت میں پیش عرضی دہندگان میں سے ایک نے گزشتہ 12 دسمبر کو کہا تھا کہ "چھ ماہ میں مجھے جسمانی قوت تیار کرنی ہے اور اسلحوں کا استعمال کرنا سیکھنا ہے۔ چھ ماہ بہت کم وقت ہے۔ ہم قومی سیکورٹی سے سمجھوتہ کرنے جا رہے ہیں۔"

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined