قومی خبریں

دِشا سالیان معاملہ: وکیل نیلیش اوجھا نے سی بی آئی کو خط لکھ کر 4 افراد کے لیے مانگی سکیورٹی

دِشا سالیان معاملے میں وکیل نیلیش اوجھا نے سی بی آئی کو خط لکھ کر خود سمیت ستیش سالیان، سمیر وانکھیڑے اور آشوتوش پاٹھک کے لیے سکیورٹی دینے کی درخواست کی۔ اوجھا نے مزید شواہد دینے کی بھی بات کہی

<div class="paragraphs"><p>وکیل نیلیش اوجھا / آئی اے این ایس</p></div>

وکیل نیلیش اوجھا / آئی اے این ایس

 

ممبئی: دِشا سالیان معاملے میں ان کے والد ستیش سالیان کی جانب سے پیروی کرنے والے وکیل نیلیش اوجھا نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو ایک خط سونپ کر خود سمیت چار افراد کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اوجھا نے ممبئی میں آئی اے این ایس سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ایک روز قبل بھیجا گیا خط سی بی آئی کو سونپ دیا گیا ہے اور اس کی نقول متعلقہ افراد کو بھی دی گئی ہیں۔

اوجھا کے مطابق سکیورٹی کی درخواست دِشا سالیان کے والد ستیش سالیان، گواہ سمیر وانکھیڑے، آشوتوش پاٹھک اور خود ان کے لیے کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملے سے وابستہ افراد کو دھمکیوں کے پیش نظر یہ درخواست کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں اوجھا نے سی بی آئی کو دِشا سالیان معاملے سے متعلق ویڈیوز، گواہوں کے بیانات اور دیگر ڈیجیٹل مواد پر مشتمل پین ڈرائیو بھی حوالے کی تھی۔

نیلیش اوجھا نے دعویٰ کیا کہ ستیش سالیان کے ساتھ مل کر عدالت میں اٹھائے گئے متعدد نکات کو بامبے ہائی کورٹ کے حکم میں جگہ ملی۔ ان کے مطابق عدالت نے پولیس کی سابقہ تفتیش پر سوالات اٹھائے اور معاملے میں سی بی آئی سے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کرنے کی ہدایت دی۔ بامبے ہائی کورٹ نے پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کیے جانے اور تفتیش سے متعلق بعض پہلوؤں پر بھی تبصرہ کیا تھا۔

اوجھا نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جنہیں وہ دِشا سالیان کی موت سے متعلق اہم سمجھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ستیش سالیان اور اوجھا نے سی بی آئی کو ایک پین ڈرائیو سونپی تھی، جس میں ان کے مطابق گواہوں کے بیانات، ویڈیوز، تصاویر اور دیگر ڈیجیٹل مواد موجود ہے۔ اوجھا نے کہا تھا کہ اس مواد میں عینی شاہدین سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔

اوجھا نے اپنے تازہ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ آدتیہ ٹھاکرے اور ڈینو موریا ممبئی میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور دِشا سالیان معاملے میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے حوالے سے ان کے پاس شواہد موجود ہیں۔ یہ الزامات وکیل کی جانب سے کیے گئے دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ سی بی آئی کی تحقیقات میں کسی شخص کا نام سامنے آنا یا کسی فریق کی جانب سے الزام عائد کیا جانا بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔

وکیل نے کہا کہ اگر مزید شواہد کی ضرورت پڑی تو وہ سی بی آئی کو اضافی مواد فراہم کریں گے۔ ان کے مطابق پین ڈرائیو اور دیگر دستاویزات تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کیے جانے کے بعد اب ان مواد کی جانچ اور ان کی بنیاد پر مزید کارروائی سی بی آئی کے دائرۂ کار میں ہے۔ دشا سالیان کی موت جون 2020 میں ممبئی میں ہوئی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد معاملے کی نئی تفتیش سی بی آئی کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔