
آئی اے این ایس
نئی دہلی: بارامتی میں 28 جنوری کو پیش آئے لیرجیٹ 45 طیارہ حادثے کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے وی ایس آر وینچرز پر بڑی انتظامی کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کے فلیٹ میں شامل چار طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق خصوصی سیفٹی آڈٹ کے دوران ایئر وردینس، فضائی تحفظ اور فلائٹ آپریشن کے شعبوں میں منظور شدہ طریقہ کار کی متعدد بار خلاف ورزی سامنے آئی۔
Published: undefined
ڈی جی سی اے کے بیان میں کہا گیا کہ حادثے کے فوری بعد ادارے کے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے کمپنی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ آڈٹ کے دوران دیکھنے میں آیا کہ دیکھ بھال کے طریقہ کار اور آپریشنل نگرانی میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔ ان بے ضابطگیوں کے پیش نظر رجسٹریشن نمبر وی ٹی وی آر اے، وی ٹی وی آر ایس، وی ٹی وی آر وی اور وی ٹی ٹی آر آئی والے لیرجیٹ 40 اور لیرجیٹ 45 طیاروں کو فوری طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ایئر وردینس کے معیار مکمل طور پر درست نہیں ہو جاتے، یہ طیارے پرواز نہیں کریں گے۔
Published: undefined
ریگولیٹر نے کمپنی کو کمی رپورٹنگ فارم جاری کرتے ہوئے نان کمپلائنس کے معاملات پر روٹ کاز اینالیسس پیش کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ آئندہ جائزے کے دوران اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ مرکزی شہری ہوا بازی کے وزیر مملکت مرلی دھر موہول نے کہا ہے کہ بارامتی حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹ 28 فروری تک یا اس سے پہلے جاری کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ حتمی رپورٹ مقررہ وقت پر پیش کی جائے گی۔
Published: undefined
حادثے میں صوبے کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی موت ہو گئی تھی۔ ان کے بھتیجے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی روہت پوار نے طیارے کی مالک نجی کمپنی پر سیفٹی ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور متعدد پریس کانفرنسوں میں تکنیکی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے بعض معاملات میں ممکنہ گڑبڑی کا بھی اظہار کیا تھا۔
بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے ضابطوں کے مطابق کسی بھی فضائی حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیس دن کے اندر جاری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ حادثے کی جانچ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی نگرانی میں تکنیکی شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ اس میں ملبے کا منظم معائنہ، آپریشنل اور مینٹیننس ریکارڈ کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر پرزوں کی لیبارٹری جانچ شامل ہے۔
Published: undefined
متاثرہ طیارے میں دو آزاد فلائٹ ریکارڈر نصب تھے۔ ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر نئی دہلی میں کامیابی سے ڈاؤن لوڈ کر لیا گیا ہے، جبکہ کاک پٹ وائس ریکارڈر کو حرارتی نقصان پہنچا۔ چونکہ اسے ہنی ویل نے تیار کیا تھا، اس لیے تکنیکی معاونت کے لیے متعلقہ ریاستِ ڈیزائن سے رابطہ کیا گیا ہے۔
ڈی جی سی اے کے مطابق گزشتہ سال نان شیڈولڈ آپریٹروں کے 51 ریگولیٹری آڈٹ کیے گئے تھے اور وی ایس آر وینچرز کی بھی متعدد بار نگرانی کی گئی تھی، تاہم حادثے کے بعد خصوصی آڈٹ کا حکم دیا گیا تاکہ تمام نظام کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: اسکرین شاٹ