قومی خبریں

دہلی کی سانسوں کا حساب: پی ایم 10 آلودگی 88 دن سے مسلسل بدتر، اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی 88 دن سے گزشتہ سال کے مقابلے میں بدتر ہے۔ آنند وہار میں اے کیو آئی 190 رہا، جبکہ 237 دنوں میں 164 دن آلودگی زیادہ تھی

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 88 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک ایک دن کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔

اجے ماکن نے اپنی ’سانس، ایس اے اے این ایس‘ سیریز کے تحت جاری تازہ پوسٹ میں کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے مسلسل 88 دن بدتر رہی ہے۔ گزشتہ روز تک یہ سلسلہ 87 دن کا تھا، جو اب مزید ایک دن بڑھ گیا ہے۔

ماکن کے مطابق رواں سال اب تک 237 دنوں کے اعداد و شمار کی پیمائش کی گئی، جن میں 164 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار دہلی کی فضائی آلودگی میں برقرار رہنے والے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اجے ماکن کی رپورٹ میں ’ڈی ویدرنگ‘ یعنی موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے طریقے کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس عمل میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثرات کو حساب کے ذریعے الگ کیا جاتا ہے، تاکہ شہر کی اپنی فضائی آلودگی کی صورت حال سامنے آسکے۔ ماکن کا کہنا ہے کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد بھی پی ایم 10 کی سطح مسلسل گزشتہ سال سے زیادہ رہنا محض موسمی اتار چڑھاؤ سے مختلف صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔

تازہ پوسٹ میں آنند وہار کی فضائی صورت حال بھی شامل ہے۔ ماکن کے مطابق آنند وہار میں آج صبح اے کیو آئی 190 ریکارڈ کیا گیا، جو ’درمیانہ‘ زمرے میں آتا ہے۔ اس سطح کے لیے پوسٹ میں سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے کوئی اضافی صحت سے متعلق انتباہ درج نہیں کیا گیا۔

ماکن کے مطابق آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13 لاکھ 63 ہزار 291 افراد رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔ ان کے مطابق آبادی اور مانیٹر کی ریڈنگ کے درمیان اس فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے۔

تازہ پوسٹ میں پوری دہلی کے لیے ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والی آبادی، جہاں اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر ریکارڈ کیا گیا ہو، صفر لاکھ بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اجے ماکن کی فراہم کردہ تازہ پوسٹ کے مطابق ہیں۔

اجے ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ ریکارڈ ہونے والے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھنے اور ان کی مسلسل نگرانی پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔

’سانس‘ سیریز کے ذریعے اجے ماکن دہلی کی پی ایم 10 آلودگی کا گزشتہ سال کے انہی دنوں سے مسلسل موازنہ پیش کر رہے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار میں 30 مئی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ 88 دن تک پہنچ گیا ہے، جبکہ رواں سال کے 237 پیمائش شدہ دنوں میں 164 دن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب رہے۔

اجے ماکن کی جانب سے جاری اس تجزیے میں موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد سامنے آنے والے رجحان کو دہلی کی فضائی آلودگی کی اصل صورت حال سمجھنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ سامنے آنے والے اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی اور عوامی سطح پر جواب دہی فضائی آلودگی کے مسئلے کو نظر انداز ہونے سے روک سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔