
اجئے ماکن، تصویر سوشل میڈیا
کانگریس رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے خزانچی اجئے ماکن نے ایک بار پھر قومی راجدھانی دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق فکر انگیز اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کردہ پوسٹ میں بتایا ہے کہ 10 اپریل 2026 کو شہر کی ہوا ایک بار پھر خطرناک سطح تک خراب ہو گئی ہے۔
Published: undefined
اجئے ماکن کے مطابق 9 اپریل کے مقابلے 10 اپریل کو راجدھانی دہلی میں آلودگی کی سطح اچانک بڑھ گئی، جو تشویش ناک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دہلی میں 10 اپریل کو اوسط پی ایم 2.5 کی سطح 51 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ روز (9 اپریل) کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ شہر میں سب سے خراب حالت وویک وِہار کی رہی، جہاں پی ایم 2.5 کی سطح 74 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد سے تقریباً 5 گنا زیادہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دہلی کے تمام 35 میں سے 35 مانیٹرنگ اسٹیشن عالمی ادارۂ صحت کی 24 گھنٹے کی محفوظ حد (15 مائیکروگرام) سے اوپر رہے، جبکہ 35 میں سے 10 اسٹیشن ہندوستان کے اپنے قومی معیار (این اے اے کیو ایس)، یعنی 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے بھی تجاوز کر گئے۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ 9 اپریل کے مقابلے میں 10 اپریل کو محض 24 گھنٹوں کے اندر شہر کے پی ایم 2.5 میں 33 فیصد کا اضافہ ہوا کی کم رفتار کے سبب درج کیا گیا ہے۔ ہوا کی رفتار گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5.5 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جو ماہانہ اوسط (5.3) کے قریب لیکن سالانہ اوسط (6.5) سے کم ہے۔ بارش نہ ہونے اور ہوا کی رفتار میں کمی کے باعث آلودگی کے ذرات فضا میں ٹھہر گئے۔ عام طور پر اپریل میں مغربی ہوائیں آلودگی کو منتشر کر دیتی ہیں، لیکن اس بار ایسا نہ ہونے سے دہلی کی فضا مزید خراب ہو گئی۔ ماکن نے زور دے کر کہا کہ شہر کا ہر ایک مانیٹرنگ اسٹیشن ڈبلیو ایچ او کے محفوظ معیار سے اوپر ہے، جو فکر کا باعث ہے۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پوسٹ میں اجئے ماکن نے کچھ خوش آئند جانکاریاں بھی شیئر کی ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ 2026 میں موجودہ وقت کی آلودگی کو دیکھا جائے تو 2025 کے مقابلے میں اوسط آلودگی 27 فیصد کم دیکھی گئی ہے۔ تاہم اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ یہ بہتری کسی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ صرف موسم کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے ان مقامات کی بھی نشاندہی کی جہاں صورت حال گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید خراب ہوئی ہے۔ ان میں دہلی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں پی ایم 2.5 کی سطح 54 مائیکروگرام (13 فیصد اضافہ)، وویک وہار میں 74 مائیکروگرام (3 فیصد اضافہ) اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ٹرمینل 3 پر 42 مائیکروگرام (2 فیصد اضافہ) درج کیا گیا۔
Published: undefined
اجئے ماکن نے اپنی پوسٹ میں معروف جریدہ ’دی لینسیٹ‘ کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ایم 2.5 کی بلند سطح شمالی ہندوستان میں اوسط عمر کو 5 سال سے زیادہ کم کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کے ’نیشنل کلین ایئر پروگرام‘ کا ذکر بھی سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا۔ انھوں نے اس پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت 40 فیصد کمی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن موجودہ اعداد و شمار اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined