قومی خبریں

دہلی کی ہوا کا روزانہ حساب، 258 دن میں 167 بار پی ایم10 گزشتہ سال سے بدتر: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق دہلی کی ہوا کی روزانہ مانیٹرنگ اور موسم کے اثرات الگ کرنے کے بعد 2026 کے 258 دنوں میں 167 دن پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال سے بدتر رہی

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے قومی خزانچی اجے ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس کے قومی خزانچی اجے ماکن / تصویر ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس کے رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کی روزانہ مانیٹرنگ اور اس کے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھنے کے طریقہ کار کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 2026 میں اب تک 258 دنوں کی ریڈنگ کا تجزیہ کیا گیا، جن میں 167 دن پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کی متعلقہ تاریخوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ ماکن کے مطابق اس تجزیے کا ماخذ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کا ڈیٹا ہے، جسے سی آر ای اے نے مرتب کیا ہے۔

ماکن نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ دہلی کی ہوا روزانہ ناپی جاتی ہے، لیکن ان کی ٹیم نے اب اس کا روزانہ حساب رکھنے کے لیے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو ہر روز مانیٹرنگ اسٹیشنوں سے ملنے والی ریڈنگ کو جمع کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرتا ہے۔

ان کے مطابق اس نظام میں ہر گھنٹے ہر مانیٹرنگ اسٹیشن سے آنے والی ریڈنگ شامل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثرات کو الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ دہلی کی اپنی فضائی آلودگی سے متعلق باقی رہ جانے والے سگنل کا تجزیہ کیا جا سکے۔ ماکن نے واضح کیا کہ یہ طریقہ ان کی ٹیم کے تیار کردہ تجزیاتی نظام کا حصہ ہے۔

ماکن نے یہ بھی بتایا کہ رپورٹ اور اس کی ویڈیو یا نریشن کو ایک ساتھ چیک کرنے کا نظام بنایا گیا ہے۔ اگر رپورٹ میں موجود کوئی خراب نتیجہ یا اہم ڈیٹا نریشن میں شامل نہ ہو تو یہ نظام آگے بڑھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ روزانہ کے اعداد و شمار میں سے کوئی اہم بات عوام تک پہنچنے سے رہ نہ جائے۔

ماکن نے مانیٹرنگ کی ایک اہم حد کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق کسی مانیٹر کی ریڈنگ کو تقریباً 4 کلومیٹر کے دائرے تک قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دہلی میں 25,55,800 افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو کسی بھی مانیٹر سے 4 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہیں، اس لیے ان علاقوں کی ہوا کو کسی مانیٹر کی ریڈنگ سے قابلِ اعتماد طور پر نہیں ناپا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہوا کا حساب‘ ویب سائٹ پر روزانہ کی رپورٹس، ہفتہ وار تفصیلی تجزیے، خصوصی تحقیقات اور مکمل طریقۂ کار دستیاب ہے۔ ماکن کے مطابق اس کا مقصد فضائی آلودگی سے متعلق اعداد و شمار اور ان کے تجزیے کو عوام کے لیے کھلا رکھنا ہے۔

ماکن نے کہا کہ 2026 میں اب تک 258 دنوں کا ڈیٹا دیکھا گیا ہے اور ان کے تجزیے کے مطابق 167 دن پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کی انہی تاریخوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا اور اعداد و شمار ان کے حق میں ہوں یا خلاف، انہیں تاریخ کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔