دہلی چڑیا خانہ، تصویر سوشل میڈیا
دہلی کے چڑیا گھر میں برڈ فلو کے معاملے سامنے آنے کے بعد عوامی صحت اور تحفظ کے پیش نظر اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہاں دو جانگھل (رنگ برنگے سارس) کے ایچ5 این1 برڈ فلو وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد ہفتہ (30 اگست) سے اگلے حکم تک چڑیا خانہ کو تماشائیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
چڑیا خانہ انتظامیہ نے یہ قدم پینٹیڈ اسٹارک کی موت کے بعد اٹھایا ہے۔ افسروں نے بتایا کہ دونوں پرندوں کے نمونے 27 اگست کو بھوپال واقع نیشنل انسٹی چیوٹ آف ہائی سیکوریٹی انیمل ڈِزیز (این آئی ایچ ایس اے ڈی) بھیجے گئے تھے اور 28 اگست کو جانچ میں ان میں برڈ فلو کی تصدیق ہوئی۔
چڑیا خانہ انتظامیہ نے کہا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اگلے 21 دن اہم ہوں گے۔ سبھی بندی اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے اور انہیں الگ رکھا جا رہا ہے۔ شیر اور باگھ کے بچوں کی بھی خصوصی طور سے نگرانی کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
چونکہ گزشتہ سال ریکارڈ بتاتے ہیں کہ بڑے چڑیا گھروں میں ایوین فلو کی وجہ سے باگھوں کی بھی موت ہوئی ہے۔ حال ہی میں دہلی چڑیا گھر میں رائل بنگال ٹائیگر کے چھ میں سے پانچ بچوں کو انفیکشن اور کمزوری کی وجہ سے موت ہو گئی۔
چڑیا گھر کے افسروں نے بتایا کہ مرکزی وزارت ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیئری کے ذریعہ جاری ایوین انفلوینزا کی تیاری، کنٹرول اور روک تھام کے لیے منصوبہ (ترمیمی-2021) کے رہنما اصول کے تحت فوراً کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
Published: undefined
ملازمین کی حفاظت کے لیے چڑیا گھر میں گہری نگرانی، سخت حیاتیاتی تحفظ کے اقدامات اور خصوصی پروٹوکال نافذ کیے گئے ہیں تاکہ انفیکشن دیگر جانوروں، پرندوں اور ملازمین میں نہ پھیلے۔ افسروں نے بتایا کہ فلو کے کنٹرول کے اقدامات گھریلو مرغیوں کے لیے اپنائے گئے اقدامات کی طرح ہی ہوں گے۔ صحت مند اور غیر متاثرہ خصوصی نسلوں کو نہیں مارا جائے گا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ چڑیا گھر میں اب تک یہ تیسری بار برڈ فلو کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا ہے۔ چڑیا گھر میں پہلی مرتبہ برڈ فلو اکتوبر 2016 میں پھیلا تھا، جس کے بعد اسے چار مہینے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران پینٹیڈٖ اسٹارک، بطخ اور پیلکن سمیت 70 سے زیادہ پرندوں کی برڈ فلو سے موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد 16 جنوری 2021 کو چڑیا گھر میں ایک بار پھر برڈ فلو پھیل گیا تھا۔ تب چڑیا گھر تین مہینے کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز