قومی خبریں

دہلی ایس آئی آر: ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے 3 دنوں میں 2.18 لاکھ سے زیادہ دعوے

ایس آئی آر میں یکم ستمبر تک نام شامل کرنے کے لیے کل 218139 فارم-6 جمع کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب نام حذف کرنے یا اعتراض کے لیے 51000 سے زیادہ فارم-7 جمع کیے گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹر لسٹ کی خصوصی  نظرثانی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی، تصویر سوشل میڈیا

 

راجدھانی دہلی میں ووٹر لسٹ کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کا عمل جاری ہے۔ اس میں لوگوں کا نام شامل کرنے، حذف کرنے یا پتہ تبدیل کیے جانے کے لیے فارم جمع کیے جا رہے ہیں۔ یکم ستمبر تک نام شامل کرنے کے لیے کل 218139 فارم-6 جمع کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب نام حذف کرنے یا اعتراض کے لیے 51000 سے زیادہ فارم-7 جمع کیے گئے ہیں۔ 31 اگست تک 214534 فارم-6 جمع ہوئے تھے۔ یکم ستمبر کو مزید 3605 فارم جمع کیے گئے۔ 31 اگست سے دعوے اور اعتراض کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ نام شامل کرنے کے لیے فارم-6، نام حذف کرنے یا اعتراض کے لیے فارم-7، پتہ تبدیل کرنے کے لیے فارم-8 جمع کرا سکتے ہیں۔

ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے سب سے زیادہ 29510 فارم مغربی دہلی سے جمع کیے گئے، اس کے بعد جنوب مشرقی دہلی سے 25646 فارم جمع ہوئے، شمال مشرقی دہلی سے 25010 فارم جمع ہوئے، شمال مغربی دہلی سے 22189 فارم جمع ہوئے اور جنوب مغربی دہلی سے 20191 فارم-6 جمع کیے گئے ہیں۔ نام حذف کرنے سے متعلق سب سے زیادہ اعتراض 14663 جنوب مشرقی دہلی سے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی 2 دنوں میں کل 51522 فارم-7 جمع ہوئے۔ پتہ تبدیل کرنے کے لیے کل 263801 فارم-8 جمع کیے گئے، ان میں سب سے زیادہ مشرقی دہلی سے 33083 فارم جمع کیے گئے۔

دہلی کے 70 اسمبلی حلقوں کے ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ سے کل 47.50 لاکھ ناموں کو حذف کر دیا گیا ہے۔ جبکہ دہلی میں کل ووٹرس تقریباً 1.45 کروڑ ہیں۔ ان میں سے 43 لاکھ سے زیادہ نام غیر حاضر یا ٹرانسفر کیٹیگری میں رکھے گئے ہیں۔ باقی کی موت ہوچکی ہے، یا دوہری انٹری ہے یا دیگر وجوہات کی بنا پر حذف کیے گئے ہیں۔ جن ووٹرس کے نام لسٹ میں ہیں، لیکن ان کی تفصیلات میں نقص ہے یا پرانے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتے، تو انہیں نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ تقریباً 33 لاکھ سے زیادہ ووٹرس کو نوٹس ملنے کا امکان ہے۔ نوٹس اور تصدیق کا عمل 29 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد 4 نومبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔ ووٹروں سے اپیل ہے کہ وہ وقت پر فارم جمع کریں اور نوٹس ملنے پر ضروری ڈاکیومنٹس لے کر ویری فیکیشن کرا لیں، تاکہ ان کا نام صحیح فہرست میں رہے۔ انتخابی افسران نے بتایا کہ اگر ووٹروں کی ڈیٹیلز کا 2002 کی دہلی ایس آئی آر سے میچ نہیں ہو پایا یا گنتی فارم میں ان کی ذاتی تفصیلات میں کوئی تضاد پایا گیا، تو انہیں نوٹس جاری کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔