
فائل تصویر آئی اے این ایس
دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ذریعہ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں دہلی میں ڈینگو کے 52 معاملات درج کیے گئے، جو گزشتہ 5 سالوں میں اس ماہ کے لیے سب سے زیادہ ہیں۔ ایم سی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اسی مدت کے دوران رپورٹ کیے گئے 42، 2024 میں 31، 2023 میں 24 اور 2022 میں 12 معاملات کے مقابلے میں یہ مسلسل اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں ابتدائی موسم میں ڈینگو کے معاملات کا پتہ چلنے کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ایم سی ڈی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ قومی راجدھانی میں اپریل تک مجموعی طور پر ڈینگو کے 107 معاملات درج کیے گئے۔ شہر میں رواں سال کے ابتدائی 4 مہینوں میں ملیریا کے معاملات بھی سامنے آئے جو حالیہ سالوں میں ابتدائی موسم میں محدود پھیلاؤ کے رجحان کو جاری رکھتے ہیں۔ دوسری جانب شہری افسران مانسون کے دوران معاملات میں ممکنہ اضافے سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
Published: undefined
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل تک شہر میں ملیریا کے 29 معاملات سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد 2025 میں اسی مدت کے دوران درج کیے گئے 39 اور 2024 کے 35 معاملات سے کم ہے۔ حالانکہ 2023 کے 15 معاملات سے زیادہ ہے۔ افسران نے معاملات میں اضافے کی وجہ اور اپریل میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کو قرار دیا اور کہا کہ ایم سی ڈی نے احتیاطی تدابیر کے تحت تعمیراتی مقامات اور رہائشی علاقوں میں لاروا کُش مہم، فوگنگ اور معائنے تیز کر دیے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال ایم سی ڈی کی ملیریا کش مہم مزید تیز ہو گئی ہے۔ 2 مئی تک افسران نے 12.15 لاکھ سے زائد گھروں کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران کیے گئے 11.99 لاکھ سے زائد دوروں اور 2024 کے 10.44 لاکھ سے زائد دوروں سے زیادہ ہیں۔ اس مہم کے دوران 15649 گھروں میں مچھروں کے پنپنے کے حالات پائے گئے، جو 2025 میں ایسے 15662 گھروں کی تعداد کے تقریباً برابر ہیں۔ شہری ادارے نے مچھروں کی افزائش کے حالات پائے جانے پر 16261 قانونی نوٹس جاری کیے اور 1712 مقدمات شروع کیے۔ اس کے علاوہ، اس نے 1.04 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت سے 358 ’گپی-8‘ مداخلتیں بھی کیں، جن میں مچھروں کے لاروا کو کنٹرول کرنے کے لیے لاروا کھانے والی مچھلیوں کا استعمال کیا گیا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined