قومی خبریں

دہلی فساد: قومی ترانہ پڑھنے پر مجبور کیے گئے فیضان کی موت کا معاملہ، راؤز ایونیو کورٹ نے 2 پولیس اہلکاروں کو بھیجا سمن

عدالت نے 4 فروی کے حکم میں کہا تھا کہ ’’آئی پی سی کی دفعہ 34 کے ساتھ سیکشن 323، 325، (2)304 کے تحت جرم اور اس سے متعلق جرائم کا نوٹس لینے کے لیے ریکارڈ پر کافی ثبوت موجود ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس

 

دہلی فسادات 2020 کے دوران ایک 23 سالہ نوجوان پر تشدد اور اس کی موت سے متعلق معاملے میں راؤز ایونیو کورٹ نے دہلی پولیس کے 2 اہلکاروں کو سمن جاری کیا ہے۔ دراصل دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی تھی۔ اس میں پولیس اہلکار متاثرہ فیضان کو لاٹھیوں سے پیٹتے اور اسے قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔

Published: undefined

دہلی پولیس کی تحقیقات میں کچھ بھی ٹھوس ثبوت نہ ملنے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے 2024 میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔ واضح رہے کہ سی بی آئی نے حال ہی میں ہیڈ کانسٹیبل رویندر کمار اور کانسٹیبل پون یادو کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 323، 325 اور 304 (2) کے تحت غیر ارادتاً قتل اور متاثرہ کو زخمی کرنے کے الزام میں چارج شیٹ فائل کی ہے۔

Published: undefined

راؤز ایونیو کورٹ کے ایڈیشنل چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ مینک گوئل نے حال ہی میں سی بی آئی چارج شیٹ پر نوٹس لیا اور ملزمان کو 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا۔ عدالت نے 4 فروی کے حکم میں کہا تھا کہ آئی پی سی کی دفعہ 34 کے ساتھ سیکشن 323، 325، 304 (2) کے تحت جرم اور اس سے متعلق جرائم کا نوٹس لینے کے لیے ریکارڈ پر کافی ثبوت موجود ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ جولائی 2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کی تحقیقات میں ناکام رہنے کے لیے دہلی پولیس کی سرزنش کی تھی۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ہیٹ کرائم کی کیٹگری میں آتا ہے اور پھر بھی پولیس کی تحقیقات سست اور ادھوری رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں پر حملہ کرنے کا الزام ہے، وہی قانون کے رکھوالے تھے اور ان کے خلاف تحقیقات بھی اسی ایجنسی کے ذریعہ کی جا رہی تھی، جس سے تفتیش کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں متوفی فیضان کی ماں قسمتن خاتون نے عرضی داخل کر الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو کردمپور میں پولیس اہلکاروں نے بے رحمی سے پیٹا تھا۔ انہوں نے درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فیضان کو پھر جیوت نگر تھانے میں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، جہاں بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں اس کی موت ہو گئی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined