
دہلی کی ایک عدالت نے 2020 فسادات سے متعلق ایک معاملہ میں 10 لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ ان ملزمان کے خلاف معاملہ کی سماعت کر رہے تھے جن کے خلاف بھجن پورہ تھانہ میں فساد، آتشز زنی، مجرمانہ سازش، غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے اور سرکاری ملازم کے جاری کردہ حکم کی خلاف ورزی سمیت مختلف قابل سزا جرائم کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
Published: undefined
استغاثہ کے مطابق ملزمان 24 فروری 2020 کو فرقہ وارانہ فسادات کے دوران علاقے میں ایک تجارتی املاک لوٹنے اور اس میں آگ لگانے والے پرتشدد ہجوم کا حصہ تھے۔ جج نے 16 اپریل کے ایک حکم میں ذکر کیا کہ استغاثہ کے مطابق قریب ہی ایک اور تجارتی املاک کی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعہ کی ایک ویڈیو کلپ سے ملزمان کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
جج نے کہا کہ ’’حالانکہ میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان فسادیوں کے چہرے آج اپنے سامنے موجود کسی ملزم سے نہیں ملا سکا۔ ان حالات میں اس دلیل کو قبول کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ استغاثہ کے 2 اہم گواہوں کی گواہی سے یہ واضح تھا کہ ان میں سے کسی نے بھی دکان کو لوٹے جانے یا اس میں آگ لگائے جانے کے واقعہ کو نہیں دیکھا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ استغاثہ اپنے معاملہ کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لیے تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ فروری 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں تشدد، آتش زنی اور پتھر بازے کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔ یہ تصادم شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی حمایت اور اختلاف کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد کئی علاقوں میں بھیڑ آمنے سامنے آ گئی، جس سے حالات بے قابو ہو گئے۔ ان فسادات میں 50 سے زائد لوگوں کی موت ہوئی اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ گھروں، دکانوں اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا۔ بعد میں پولیس تحقیقات، گرفتاری اور عدالتوں میں سماعت کے ذریعہ معاملہ کی تحقیقات جاری رہی، جبکہ اس واقعہ نے لا اینڈ آرڈر اور سماجی ہم آہنگی پر سنگین سوال کھڑے کیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined