
تصویر پریس ریلیز
نئی دہلی: ترلوک پوری میں 16 سالہ مدرسہ طالب علم ایان سیفی کے قتل کے معاملہ میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری کی قیادت میں ایک وفد نے مشرقی دہلی کے علاقہ ترلوک پوری، گلی نمبر 32 پہنچ کر مقتول طالب علم کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن قانونی، سماجی اور مالی تعاون کا یقین دلایا۔
Published: undefined
وفد نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی جانب سے تعزیت پیش کی اور ایان سیفی کی والدہ اور نانی سے ملاقات کی۔ اس دوران اہل خانہ نے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے شدید غم و صدمہ کا اظہار کیا۔ مولانا محمد قاسم نوری نے کہا کہ جمعیۃ علماء اس مشکل وقت میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیوہ ماں کے اکلوتے سہارے کا بے رحمی سے قتل انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے۔
جمعیۃ علماء کے وفد نے مقامی پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ اس سنگین معاملہ کو معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ وفد نے کہا کہ ایک بیوہ ماں کا اکلوتا سہارا بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، اور وہ بھی بغیر کسی جھگڑا اور اشتعال کے۔ اس لیے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت ترین قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ مقتول کے خاندان کو انصاف دلانا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے،نیز ان کی والدہ کو معقول معاوضہ بھی دیا جائے تا کہ وہ اپنی زندگی گزر بسر کرسکیں۔
Published: undefined
جمعیۃ علماء کے وفد نے مقامی پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ وفد نے کہا کہ اگر کسی بے گناہ نوجوان کا دن دہاڑے اس طرح قتل ہوتا ہے تو اس سے عوام میں خوف و بے چینی پیدا ہوتی ہے، اس لیے تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔ وفد نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مقتول کی والدہ کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ علاج اور روزمرہ زندگی کے مسائل کا سامنا کر سکیں۔
Published: undefined
اہل خانہ کے مطابق ایان سیفی ایک بیوہ ماں کا اکلوتا سہارا تھا جبکہ اس کی والدہ کافی عرصہ سے کینسر جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں۔ وفد کی آمد کے دوران والدہ اور نانی شدت غم سے آبدیدہ ہوگئیں، جس پر مولانا محمد قاسم نوری نے انہیں صبر کی تلقین کی اور فوری مالی امداد بھی پیش کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ بھی خاندان کی مستقل مدد کے لیے مناسب انتظام کیا جائے گا۔
ایان سیفی جامعہ ہدایہ، جے پور کا طالب علم تھا اور قرآن کریم کے کئی پارے حفظ کر چکا تھا۔ اہل خانہ اور عینی شاہدین کے مطابق 30 اپریل کی شام وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھا کہ اسی دوران 6 سے 8 افراد پر مشتمل ایک گروہ وہاں پہنچا اور اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چاقو مارے۔ بعض عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ حملہ کے دوران مذہبی نوعیت کے نعرے بھی لگائے گئے۔
Published: undefined
شدید زخمی حالت میں ایان سیفی کو پہلے لال بہادر شاستری اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں اسے ایمس ٹراما سینٹر ریفر کیا گیا جہاں دوران علاج اس کا انتقال ہوگیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایان نے ہوش میں آنے کے بعد بعض حملہ آوروں کے نام پولیس کو بتائے تھے اور اس کا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء کے وفد میں مولانا محمد قاسم نوری، مولانا آفتاب عالم صدیقی، مولانا عظیم اللہ صدیقی، قاری عبدالرحمن، محمد ریحان اور مولانا بلال قاسمی شامل تھے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined