
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ہندوستان میں گھریلو استعمال کے لیے تیار کی جانے والی زندگی بچانے والی اینٹی کینسر دواؤں کو غیر قانونی طور پر برآمد کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے متعلقہ سرکاری اداروں کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
Published: undefined
عدالت میں دائر مفاد عامہ کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ کمپنیاں اور برآمد کنندگان گھریلو بازار کے لیے دستیاب اینٹی کینسر دوائیں خرید کر جانچ اور تصدیق کے نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عرضی کے مطابق ان دواؤں کو قانونی برآمدی سامان کے ساتھ ملا کر بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے، جس سے ملک کے اندر ضروری دواؤں کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت، مرکزی دوا معیارات کنٹرول تنظیم، بیرونی تجارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل، مرکزی بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز بورڈ، محکمہ محصولات انٹلیجنس اور جی ایس ٹی انٹلیجنس ڈائریکٹوریٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے پوچھا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے نگرانی کا کیا نظام موجود ہے؟
Published: undefined
عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ دوائیں خاص طور پر ہندوستانی مریضوں، بالخصوص کینسر کے مریضوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے گھریلو بازار میں فراہم کی جاتی ہیں لیکن کچھ عناصر انہیں بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف دواؤں کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے بلکہ سنگین بیماریوں سے نبرد آزما مریضوں کے علاج پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے صحت سے متعلق وزارت اور متعلقہ محکموں سے سخت سوالات کرتے ہوئے دریافت کیا کہ گھریلو ضرورت کی دواؤں کو برآمد کے نام پر بیرون ملک بھیجنے کے رجحان کو روکنے کے لیے کیا مضبوط اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس غیر قانونی کاروبار پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مریضوں کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ ملک کے دوا تقسیم نظام اور صحت خدمات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز