قومی خبریں

پاسپورٹ اور ویزا خدمات کے ٹھیکوں پر دہلی ہائی کورٹ سخت، ہندوستانی سفارت خانوں کے لیے نئی ٹینڈر کارروائی کا حکم

دہلی ہائی کورٹ نے چار ہندوستانی سفارت خانووں میں پاسپورٹ، ویزا اور قونصلر خدمات کے تکنیکی جائزے کو من مانی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا اور ایک ماہ میں نئے ٹینڈر جاری کرنے کا حکم دیا

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کی جانب سے ابوظہبی، کویت، سنگاپور اور کینبرا میں واقع 4 ہندوستانی سفارت خانوں میں پاسپورٹ، ویزا اور قونصلر خدمات کی آؤٹ سورسنگ کے لیے اختیار کی گئی تکنیکی جانچ کے عمل کو منسوخ کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر نئی ٹینڈر کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بولی دہندگان کی تکنیکی جانچ من مانی، غیر منطقی اور غیر شفاف انداز میں کی گئی، جو آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس انیل کشیترپال اور جسٹس شیل جین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ای ٹریو ٹیک لمیٹڈ اور ویراسس لمیٹڈ کی عرضیوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ دونوں کمپنیوں نے تکنیکی بولی کے مرحلے میں نااہل قرار دیے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ عمومی طور پر عدلیہ ماہر کمیٹیوں کے تکنیکی جائزوں میں مداخلت نہیں کرتی، تاہم جب فیصلہ سازی کا عمل شفافیت، مساوات اور منصفانہ طرز عمل کے آئینی اصولوں کے برخلاف ہو تو عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار کمپنیوں کو مختلف پیمانوں کے تحت دیے گئے نمبر من مانی اور غیر منطقی تھے، اس لیے یہ تکنیکی جانچ آئینی جانچ پر پوری نہیں اترتی۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد حکومت نے کمپنیوں کو مختلف پیمانوں کے تحت دیے گئے نمبر تو فراہم کر دیے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ نمبر کس بنیاد پر دیے گئے یا کن وجوہات کی بنا پر کم کیے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جانچ سے متعلق دستاویزات میں نہ تو درخواست گزار کمپنیوں کی خامیوں کی وضاحت کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کامیاب کمپنیوں کے مقابلے میں انہیں کم نمبر کیوں دیے گئے۔

دہلی ہائی کورٹ نے یہ بھی پایا کہ مختلف ہندوستانی سفات خانوں میں تقریباً یکساں تجاویز اور دستاویزات کے لیے الگ الگ نمبر دیے گئے، جبکہ اس فرق کی کوئی معقول وجہ ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ عدالت کے مطابق یکساں مواد کا یکساں معیار کے مطابق جائزہ لینا شفاف اور منصفانہ ٹینڈر عمل کا بنیادی تقاضا ہے۔

مرکزی حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس معاملے پر پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اس لیے دوبارہ سماعت نہیں ہو سکتی، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مختلف پیمانوں کے تحت دیے گئے نمبروں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد درخواست گزاروں کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کی نئی بنیاد پیدا ہوئی ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی ٹینڈر کارروائی مکمل ہونے تک موجودہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنا کام جاری رکھیں گی تاکہ پاسپورٹ، ویزا اور قونصلر خدمات حاصل کرنے والے افراد کو کسی قسم کی دشواری یا تعطل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔