قومی خبریں

یمنا کے سیلابی میدان میں پارکنگ اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندی، دہلی ہائی کورٹ کا ڈی ڈی اے کو سخت حکم

دہلی ہائی کورٹ نے یمنا کے سیلابی میدان میں پارکنگ اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ عدالت نے دہلی ترقیاتی اتھارٹی کو ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانے اور متبادل پارکنگ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے یمنا کے سیلابی میدانوں میں واقع سُر گھاٹ علاقے کو ماحولیاتی اعتبار سے نہایت حساس قرار دیتے ہوئے وہاں ہر طرح کی تجارتی اور مذہبی سرگرمیوں پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے دہلی ترقیاتی اتھارٹی کو ہدایت دی کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی پارکنگ کی اجازت نہ دی جائے، چاہے وہ کسی مذہبی یا سماجی موقع پر آنے والے لوگوں کی سہولت کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

Published: undefined

جسٹس جسميت سنگھ کی سربراہی والی سنگل جج بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ زون-او کے تحت آنے والے یمنا سیلابی میدانوں کی زمین پر گاڑیوں کی پارکنگ سمیت کسی بھی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور علاقے کی حساسیت کو نظر میں رکھتے ہوئے اس مقام کو ہر قسم کی تجارتی اور مذہبی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

عدالت نے یہ حکم سریش کمار کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا تھا کہ سُر گھاٹ پر موجود پارکنگ مقام کا قبضہ اسے دوبارہ دیا جائے۔ اس نے کہا کہ ستمبر 2022 میں دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری ٹینڈر میں وہ سب سے زیادہ بولی لگانے والا قرار پایا تھا اور سکیورٹی رقم و پیشگی لائسنس فیس جمع کرانے کے بعد اسے تین برس کے لیے پارکنگ چلانے کا حق دیا گیا تھا۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ دہلی ترقیاتی اتھارٹی نے میونسپل کارپوریشن کو صرف 2508 مربع میٹر زمین دی تھی، جبکہ میونسپل ادارے نے درخواست گزار کو 3780 مربع میٹر زمین الاٹ کر دی۔ بعد میں دہلی ترقیاتی اتھارٹی نے اپنی اجازت واپس لے لی اور 31 جنوری 2025 کو پارکنگ الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی۔

عدالت نے اپنے حکم میں دہلی ترقیاتی اتھارٹی کے اس موقف کا بھی ذکر کیا کہ سُر گھاٹ کی زمین ترقیاتی منصوبوں کے لیے فوری طور پر خالی کرانا ضروری تھا کیونکہ یہ علاقہ یمنا کے سیلابی میدانوں کا حصہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے منسوخی کے حکم کو چیلنج ہی نہیں کیا، اس لیے پارکنگ بحال کرنے کی اس کی مانگ قابل قبول نہیں ہے۔

Published: undefined

جسٹس جسميت سنگھ نے کہا کہ منسوخی کی قانونی حیثیت اور معاوضے سے متعلق سوالات متنازع حقائق پر مبنی ہیں، جن پر رٹ درخواست میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزار کو دیوانی مقدمہ دائر کر کے ہرجانے کا مطالبہ کرنے کی آزادی دی۔

ساتھ ہی عدالت نے دہلی ترقیاتی اتھارٹی کو ہدایت دی کہ اگر کسی مذہبی یا مبارک موقع پر یمنا کی پوجا کے لیے آنے والے افراد کے لیے پارکنگ کی ضرورت محسوس ہو تو سیلابی میدان سے دور کسی دوسرے مقام پر متبادل انتظام کیا جائے تاکہ ماحولیاتی حساس علاقے کو نقصان نہ پہنچے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined