قومی خبریں

ایس آئی آر ڈیوٹی میں اساتذہ کی تعیناتی پر دہلی ہائی کورٹ کا اظہارِ تشویش، الیکشن کمیشن کو دی خصوصی ہدایت

دہلی ہائی کورٹ نے ایس آئی آر ڈیوٹی میں اساتذہ کی تعیناتی پر الیکشن کمیشن سے کہا کہ اساتذہ کے بوجھ اور ذہنی دباؤ کو مدنظر رکھے۔ عدالت نے 11 گھنٹے مسلسل کام لینے اور دھمکی آمیز زبان پر بھی اعتراض کیا

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت اسکولی اساتذہ کی انتخابی ڈیوٹی لگانے کے معاملے میں الیکشن کمیشن کو اساتذہ کی عملی مشکلات اور ذہنی دباؤ کے حوالے سے زیادہ حساس رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتخابی ذمہ داریاں سونپتے وقت اساتذہ پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ایک استاد روزانہ اسکول میں پہلے ہی 6 سے 8 گھنٹے تدریسی فرائض انجام دیتا ہے۔ اس کے بعد اگر اسی استاد کو انتخابی کام بھی سونپ دیا جائے تو اس پر ذہنی اور جسمانی دباؤ بڑھنا فطری امر ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور اس کے افسران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور اسی کے مطابق فیصلے کریں۔

ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ انتخابی فرائض تفویض کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اساتذہ پر اتنا زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے جو ان کے لیے ناقابل برداشت بن جائے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتخابی انتظامات اور تعلیمی ذمہ داریوں کے درمیان مناسب توازن قائم رکھا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ پرائمری اور جونیئر اسکولوں میں بڑی تعداد میں خواتین اساتذہ خدمات انجام دیتی ہیں، جن پر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ گھریلو اور خاندانی فرائض بھی عائد ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی استاد سے مسلسل 11 گھنٹے کام لینے کی توقع کرنا مناسب نہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے دریافت کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اس نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے بعض احکامات میں استعمال ہونے والی زبان پر بھی ناراضی ظاہر کی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ سرکاری احکامات میں اختیار کیے گئے بعض الفاظ دھمکی آمیز محسوس ہوتے ہیں، جبکہ سرکاری ملازمین کے ساتھ اس نوعیت کی زبان مناسب نہیں سمجھی جا سکتی۔

یاد رہے کہ یہ معاملہ اس عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں ایس آئی آر کے لیے اسکولی اساتذہ کی ڈیوٹی لگانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اساتذہ کو اپنے معمول کے تدریسی فرائض انجام دینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف الیکشن کمیشن نے انتخابی ڈیوٹی سے متعلق سرکلر جاری کیا ہے، جبکہ دوسری جانب اسکولوں کے پرنسپل اساتذہ کو باقاعدہ تدریسی عمل جاری رکھنے کی ہدایت دے رہے ہیں، جس کے باعث اساتذہ شدید تذبذب کا شکار ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو یہ تجویز بھی دی کہ دہلی حکومت اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) سے یہ تفصیلات طلب کی جائیں کہ تدریسی اوقات کے دوران کتنے اساتذہ انتخابی ڈیوٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت 20 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اس مسئلے پر مناسب جواب طلب کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔