
دہلی میں فضائی آلودگی / آئی اے این ایس
راجدھانی دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر اسکولوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب پانچویں جماعت تک کے بچوں کی پڑھائی ہائبرڈ موڈ میں ہو گی۔ یعنی اسکولوں میں بالمشافہ کلاسوں کے ساتھ آن لائن پڑھائی کا اختیار بھی دستیاب ہوگا۔ محکمۂ تعلیم نے اس سلسلے میں حکم جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ سرکاری اور نجی، دونوں اسکولوں پر نافذ ہوگا۔ محکمۂ تعلیم کی جانب سے جاری حکم کے مطابق دہلی میں پانچویں جماعت تک کی پڑھائی اب ہائبرڈ موڈ میں کرائی جائے گی۔ اس کے تحت بچوں کو اسکول جا کر پڑھنے کے ساتھ ساتھ گھر سے آن لائن کلاس کرنے کا اختیار بھی ملے گا۔ اسکولوں کو یہ انتظام فوری طور پر نافذ کرنا ہوگا۔
یہ حکم صرف حکومت دہلی کے اسکولوں تک محدود نہیں ہے۔ میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی)، نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) اور دہلی کینٹ کے اسکولوں کو بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ ہدایت تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر نافذ ہوگی۔ دہلی میں آلودگی کی سطح بڑھنے کے بعد گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے تیسرے مرحلے کی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ اسی کے بعد محکمۂ تعلیم نے چھوٹے بچوں کی پڑھائی کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا ہے۔ حکم کے مطابق ہائبرڈ موڈ میں پڑھائی کا انتظام اگلے حکم تک جاری رہے گا۔ یعنی فی الحال پانچویں جماعت تک کے بچوں کے لیے اسکولوں میں آف لائن پڑھائی کے ساتھ آن لائن کلاس کا اختیار بھی ہوگا۔ اس کا مقصد آلودگی کے دوران بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کا متبادل فراہم کرنا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ضلعی ڈپٹی ڈائریکٹرز آف ایجوکیشن کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے متعلقہ علاقوں کے اسکول ہدایات پر عمل کریں۔ اس طرح انفرادی طور پر اسکول سربراہوں کو جاری کردہ ہدایات کے علاوہ ضلعی سطح پر نگرانی کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بچوں، والدین اور اسکولوں کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہوں گے۔ آن لائن تعلیم کا اختیار منتخب کرنے والے کنبے کو حاضری اور اسباق کے سلسلے میں گھر سے ہی تال میل قائم کرنا ہوگا، جبکہ اسکولوں کو کلاس روم میں تدریس کے ساتھ آن لائن تعلیم کا انتظام بھی بیک وقت چلانا ہوگا۔ جو والدین بالمشافہ کلاسوں میں شرکت کو ترجیح دیتے ہیں، وہ ہائبرڈ نظام کے تحت اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا جاری رکھ سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔