
آٹو، تصویر آئی اے این ایس
’دہلی آٹو رکشہ یونین‘ کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ آٹو رکشہ یونین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران ’ویلفیئر بورڈ‘ بنانے کا مطالبہ کیا جائے گا اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ دیگر مسائل کو اس احتجاجی مظاہرے میں اٹھایا جائے گا۔ یہ تحریک 17 اگست، یعنی آج سے ہی شروع ہوگی۔ ’بھارتیہ مزدور سنگھ‘ کے مطابق مزدور یونین کے لوگ متحد ہو کر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف اس تحریک کو شروع کریں گے۔
’دہلی آٹو رکشہ یونین‘ کے جنرل سکریٹری راجندر سونی نے کہا کہ ’’میں سبھی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنتر منتر پہنچیں اور حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ دہلی حکومت فوراً ’آٹو-ٹیکسی ڈرائیور ویلفیئر بورڈ‘ بنائے اور گاڑیوں کی فٹنس فیس میں کیے گئے اضافے کو فوراً واپس لے۔‘‘ راجندر سونی نے مزید کہا کہ کام کے گھنٹوں کی حد طے کی جائے گی۔ یونین کا مطالبہ ہے کہ دہلی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی جوابدہی بھی طے ہو۔ ساتھ ہی پرائیویٹ نمبر پلیٹ والی بائیک ٹیکسی پر فوری پابندی لگائی جائے۔
قابل ذکر ہے کہ وزارت ٹرانسپورٹ نے نومبر 2025 میں 20 برس سے زیادہ پرانی سبھی موٹر گاڑیوں کے لیے فٹنس ٹیسٹ فیس بڑھا دی تھی۔ یہ تبدیلی اس لیے کی گئی تاکہ لوگ ایسی گاڑی رکھنے سے بچیں۔ وزارت کے اس فیصلہ کے خلاف آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے پہلے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اب جبکہ انھوں نے اپنے کچھ اہم مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تو فٹنس ٹیسٹ کی فیس میں اضافہ کو واپس لینے کا مطالبہ بھی زور و شور سے کیا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔