قومی خبریں

یورپ کے سات ملکوں میں درجنوں سپرمارکیٹوں پر سائبر حملہ، فریج اور فریزر متاثر

یورپ کے سات ملکوں میں سپرمارکیٹوں کے فریج اور فریزر سائبر حملے سے متاثر ہوئے۔ بیلجیم اور لکسمبرگ میں ڈیلہائز کی تقریباً 40 شاخیں زد میں آئیں۔ کمپنی نے آلات کو نیٹ ورک سے الگ کیا اور تحفظی اقدامات کیے

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر / Getty Images</p></div>

فائل تصویر / Getty Images

 
Anadolu

یورپ کے سات ملکوں میں درجنوں سپرمارکیٹ سائبر حملے کی زد میں آئے، جس کے نتیجے میں دکانوں کے فریج اور فریزر متاثر ہوئے۔ بیلجیم اور لکسمبرگ میں ڈیلہائز سپرمارکیٹ کی تقریباً 40 شاخوں پر اثر پڑا، جبکہ سویڈن، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، ایسٹونیا اور فن لینڈ میں بھی بعض دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ فریج بنانے والی بیلجیم کی کمپنی سابکوبل کے مطابق حملہ آوروں نے فریج کے ایواپوریٹرز کو ڈی فراسٹ موڈ پر ڈال دیا، جس سے ان کا درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن موئلینز نے پیر کو بیلگا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ سائبر حملہ تھا۔ ان کے مطابق کمپنی نے متاثرہ فریج کو نیٹ ورک سے الگ کرنے کے لیے رات بھر اور صبح سے کام کیا۔

حملے کا طریقۂ کار مبینہ طور پر اس کارروائی جیسا تھا جو گزشتہ ماہ فرانس کے سیکڑوں سپرمارکیٹوں پر کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ لاکھوں یورو مالیت کی غذائی اشیا ضائع کرنا پڑی تھیں۔ تاہم، موجودہ حملے کے باعث ہونے والے مالی نقصان یا ضائع شدہ خوراک کی مقدار کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

موئلینز نے کہا کہ اکتوبر کے آغاز میں فرانس میں حملے کے بعد سے سابکوبل اپنے صارفین کے فریج کو ایسے خطرات سے بچانے پر کام کر رہی تھی۔ مگر صرف سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کافی نہیں تھی؛ آلات میں کچھ ہارڈویئر تبدیلیاں بھی ضروری تھیں۔

یورپ کے بیشتر سپرمارکیٹوں میں فریج انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے ہیں، تاکہ ان کی مرمت اور تکنیکی خرابیوں کا ازالہ دور سے کیا جا سکے۔ یہی سہولت، اگر محفوظ نہ ہو، تو نظام کو سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔

موئلینز کے بقول، “سب سے آسان حل یہ ہے کہ فریج کو محفوظ انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے کنٹرول کیا جائے۔” انہوں نے بتایا کہ فرانس میں حملے کے بعد سابکوبل کے زیادہ تر صارفین نے یہی انتظام اپنا لیا تھا، تاہم حالیہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے باوجود خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔ کمپنی نے متاثرہ آلات کو نیٹ ورک سے علیحدہ کر کے مزید نقصان روکنے کی کوشش کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔