
آئی اے این ایس
ناگپور: مہاراشٹر کے ناگپور میں 6 دن پہلے بھڑکنے والے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد اتوار کو شہر کے تمام علاقوں سے کرفیو ہٹا لیا گیا۔ تاہم، پولیس نے حساس علاقوں میں گشت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 17 مارچ کو تشدد بھڑکنے کے بعد شہر کے کوتوالی، گنیش پیٹھ، تحصیل، لکڑ گنج، پچپاولی، شانتی نگر، سکرودرا، نندن ون، امام باڑہ، یشودھرا نگر اور کپل نگر پولیس اسٹیشن کے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔
یہ تشدد اس وقت ہوا جب یہ افواہ پھیلی کہ چھترپتی سنبھاجی نگر میں واقع مغل بادشاہ اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے کے دوران وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے مظاہرے میں ایک چادر، جس پر مقدس آیات لکھی تھیں، مبینہ طور پر جلا دی گئی۔ اس کے بعد ناگپور کے کئی علاقوں میں پتھراؤ اور آگ زنی کے واقعات پیش آئے۔
پولیس کے مطابق، اس تشدد میں پولیس ڈپٹی کمشنر سطح کے تین افسران سمیت 33 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے اب تک 112 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں سے سات کو ہفتہ کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 20 مارچ کو نندن ون اور کپل نگر علاقوں سے کرفیو ہٹایا گیا تھا، جب کہ 22 مارچ کو پچپاولی، شانتی نگر، لکڑ گنج، سکرودرا اور امام باڑہ علاقوں میں کرفیو ختم کیا گیا۔ اتوار کو پولیس کمشنر رویندر سنگھل نے بقیہ تین علاقوں، گنیش پیٹھ، تحصیل اور یشودھرا نگر میں بھی کرفیو ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور حساس علاقوں میں گشت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔