قومی خبریں

سی پی سی بی کا دہلی-این سی آر میں آلودگی کنٹرول کرنے والے آلات کے بغیر چلنے والی صنعتی اکائیوں کو بند کرنے کا حکم

بورڈ نے دہلی-این سی آر کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’ایئر پولیوشن کنٹرول ڈیوائس‘ لگانے یا انہیں اپ گریڈ کرنے میں لاپروائی برتنے والی صنعتی اکائیوں کو فوری طور پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کریں۔

<div class="paragraphs"><p>مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ، تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ، تصویر، آئی اے این ایس

 

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے دہلی-این سی آر میں آلودگی پھیلانے والی صنعتی اکائیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ بورڈ نے دہلی-این سی آر کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’ایئر پولیوشن کنٹرول ڈیوائس‘ (اے پی سی ڈی) لگانے یا انہیں اپ گریڈ کرنے میں لاپروائی برتنے والی صنعتی اکائیوں کو فوری طور پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کریں۔ ایئر پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پولوشن ایکٹ، 1981 کی دفعہ 18(1) (بی) کے تحت جمعہ کے روز جاری کردہ ہدایت میں سی پی سی بی نے دہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) اور ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان کے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ سے کہا ہے کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتی اکائیوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے متعلقہ افسران سے ان صنعتی اکائیوں کی مکمل فہرست (یونٹ کے لحاظ سے) فراہم کرنے کو بھی کہا ہے، جو قوانین پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔

ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈوں اور ڈی پی سی سی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن (سی اے کیو ایم) کی ہدایت نمبر 98 کی شق 21 (آئی) کے دائرے میں آنے والی ان تمام صنعتی اکائیوں کو فوری طور پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کریں، جنہوں نے پولیوشن کنٹرول ڈیوائس نصب کرنے یا اسے اپ گریڈ کرنے کے لیے ورک آرڈر جاری نہیں کیے ہیں اور جو ’ایڈیکویسی اسیسمنٹ رپورٹ ‘یا ایگزمپشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی ہیں۔ بورڈوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ایسی صنعتی اکائیاں 5 دنوں کے اندر ورک آرڈر جاری کرنے کا تسلی بخش ثبوت یا کوئی مستند ایگزمپشن سرٹیفکیٹ یا ’ایڈیکویسی اسیسمنٹ رپورٹ ‘ پیش کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو ان کے خلاف کاروبار بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

تازہ ترین ہدایات کے تحت ایسی صنعتی اکائیاں اس وقت تک بند رہیں گی، جب تک وہ ضروری ورک آرڈر جاری نہیں کر دیتیں اور ضابطوں کی پابندی کے لیے ایک قابل اعتماد مدت کا منصوبہ جمع نہیں کرا دیتیں، جسے متعلقہ آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے منظوری دے دی جائے۔ متعلقہ بورڈوں کو ہر ہفتے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کو اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنی ہوگی، جس میں کی گئی کارروائی کی تفصیلات درج ہوں گی۔ اس ہدایت کے تحت ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈوں اور ڈی پی سی سی کو فوری طور پر ہدایت موصول ہونے کی تصدیق کرنی ہوگی اور ہر ہفتے سی پی سی بی کو کی گئی کارروائی کی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

سی پی سی بی نے صنعتی اداروں کے رجسٹریشن اور فضائی آلودگی پر قابو پانے والے آلات کی تنصیب اور ان میں بہتری کی صورتحال کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل بھی تیار کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ہدایت یکم اکتوبر سے 50 ایم جی/این ایس³ کے ترمیم شدہ اخراجی معیارات نافذ ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے۔ اس کے تحت ’ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن‘ (سی اے کیو ایم) کی ہدایت نمبر 98 (ترمیم شدہ) کے دائرے میں آنے والی تمام صنعتی اکائیوں کے لیے مقررہ معیارات پر عمل کرنا لازمی ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔