
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
اتر پردیش کے سہارنپور واقع کلکٹریٹ احاطہ میں موجود تقریباً 70 سال پرانی مسجد کو وہاں سے ہٹانے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے۔ سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے مسجد کو سرکاری زمین پر تعمیر شدہ غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے اسے وہاں سے ہٹانے کو کہا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقوں کو 30 دن کے اندر خود قبضہ ہٹانے کی ہدایت دی ہے، اور ایسا نہ کرنے پر انتظامیہ کو طاقت کے ذریعہ بے دخلی کی کارروائی کرنے اور کروڑوں روپے کا جرمانہ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی اس مسجد پر بلڈوزر چلنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
کلکٹریٹ کی مسجد سے متعلق معاملہ پر سماعت سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں اتر پردیش عوامی احاطہ (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ کے تحت چل رہی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے دستیاب سرکاری ریکارڈ، محصولات کے ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد عدالت نے مانا کہ جس زمین پر مسجد تعمیر کی گئی ہے، وہ سرکاری زمین ہے اور اس پر کی گئی تعمیر مجاز نہیں ہے۔
سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کلکٹریٹ احاطے کا خسرہ نمبر 539 سرکاری ریکارڈ میں کچہری اور کلکٹریٹ کے نام درج ہے۔ عدالت کے مطابق اسی سرکاری زمین کے 315 مربع میٹر حصہ پر مسجد تعمیر کی گئی، جسے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر غیر قانونی قبضہ قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے متعلقہ قابضین کو 30 دن کے اندر خود قبضہ ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اگر مقررہ مدت میں ایسا نہیں کیا گیا تو انتظامیہ خود کارروائی کرے گی۔ عدالت نے صرف بے دخلی کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ 6 کروڑ 41 لاکھ 65 ہزار 565 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ اس رقم کی وصولی ضابطہ کے مطابق کی جائے گی۔
اس تنازعہ کی شروعات بجرنگ دل کے سابق ریاستی کنوینر وکاس تیاگی کی شکایت کے بعد ہوئی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ کلکٹریٹ احاطہ میں واقع مسجد کا استعمال صرف مذہبی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے۔ الزام یہ بھی تھا کہ احاطے میں ایک ڈاک خانہ چلایا جا رہا ہے اور کچھ کمروں کو کرائے پر دے کر مالی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اسی شکایت کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی آگے بڑھی۔
عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ فیصلہ دستیاب دستاویزات اور محصولات کے ریکارڈ کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں متعلقہ زمین سرکاری احاطے کے طور پر درج ہے۔ ایسے میں اس پر کسی بھی طرح کی غیر مجاز تعمیر عوامی احاطہ ایکٹ کے دائرے میں آتی ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقوں کو 30 دن کی مہلت دی ہے۔ اگر اس مدت میں قبضہ نہیں ہٹایا جاتا ہے تو انتظامیہ قانون کے تحت طاقت کے ذریعہ بے دخلی کی کارروائی کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی جرمانے کی رقم کی وصولی بھی شروع کی جائے گی۔
عوامی احاطوں پر تجاوزات سے متعلق معاملات میں اس حکم کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں سرکاری ریکارڈ اور محصولات کے ریکارڈ کو بنیاد بنایا ہے۔ ایسے معاملات میں حتمی فیصلہ دستاویزات اور نافذ قوانین کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ اب انتظامیہ کی نظر 30 دن کی مقررہ مدت پر رہے گی۔ اگر متعلقہ فریق عدالت کے حکم پر عمل نہیں کرتے ہیں تو انتظامیہ کو بے دخلی کی کارروائی کرنی ہوگی اور ساتھ ہی کروڑوں روپے کے جرمانے کی وصولی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔