
جیتو پٹواری، تصویر قومی آواز/ویپن
مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے صدر جیتو پٹواری نے دیواس میں مبینہ طور پر نقلی شراب سے ہونے والی اموات کے معاملے میں موہن یادو حکومت پر شراب مافیا کو بچانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جیتو پٹواری نے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش میں حکومت کی جانب سے اجتماعی قتل کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے۔ ایسے معاملات میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ مرینا میں غیر قانونی زہریلی شراب پینے سے لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ حکومت نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ پھر ساگر میں زہریلی شراب سے 100 سے زیادہ خاندانوں کے افراد کی موت کے لیے حکومت ذمہ دار ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا گیا، لیکن اس نے کیا کیا، اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔‘‘
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کی رپورٹ کے مطابق جیتو پٹواری نے کہا کہ ’’دیواس میں بھی 20 سے زائد افراد کی موت ہو گئی۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ میری کلکٹر سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کوئی زہر نہیں ہے۔ اس بارے میں کلکٹر کے عوامی بیانات موجود ہیں۔ وہاں کے دیگر انتظامی افسران کے بیانات بھی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا، جنہوں نے زہریلی شراب فروخت کی تھی۔ اگر شراب زہریلی نہیں تھی تو انہیں گرفتار کیوں کیا گیا؟ اس پورے معاملے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مافیا نے وزیر اعلیٰ کو اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ شراب مافیا پانچویں منزل سے حکومت چلا رہے ہیں۔ جس طرح کی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں، ان سے ملک اور ریاست کے لوگ فکرمند ہیں۔ عام لوگ پریشان ہیں۔ ہر جگہ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’حکومت کو بیدار کرنے کے لیے ہم دیواس جا رہے ہیں۔ میری وزیر اعلیٰ موہن یادو سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے میں مثبت نقطۂ نظر اپناتے ہوئے فیصلے لینا شروع کریں۔ حکومت کی خامیوں کو دور کریں۔ خامیوں کو دبانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ شراب مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس پورے معاملے پر ملک کے وزیر داخلہ کو بھی خط لکھا گیا ہے۔‘‘ جیتو پٹواری نے مزید کہا کہ ’’کانگریس مدھیہ پردیش میں اس طرح کے سرکاری قتل کی مخالفت کرے گی۔ آج ہم متاثرہ خاندانوں کے افراد کو لے کر کلکٹر سے سوال جواب کریں گے۔ غیر قانونی زہریلی شراب کے معاملے میں ریاستی حکومت کو ایک جامع لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو شراب مافیا کے خلاف سخت قدم اٹھانے چاہئیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ ایسا کرے گی، ورنہ ہم یہی سمجھیں گے کہ مافیا حکومت چلا رہا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔