
جے رام رمیش / INCIndia@
کیرالہ اور تمل ناڈو میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔ دونوں ریاستوں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اس دوران کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بحث کے لیے حد بندی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جنوبی ریاستیں، جو اپنی آبادی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرتی ہیں، کو کم پارلیمانی نشستوں کے ساتھ سزا نہیں دی جانا چاہیے۔ ’پی ٹی آئی‘ کو دیئے انٹرویو میں جے رام رمیش نے مرکزی فنڈز کی تقسیم میں امتیازی سلوک کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ نمائندگی اور مالی انصاف دونوں ہی کیرالہ اور تمل ناڈو کے آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو گھیرنے کے لیے اٹھائے جانے اہم مسائل ہوں گے۔
Published: undefined
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کیرالہ اور تمل ناڈو میں حد بندی انتخابی مہم کا مسئلہ بننے جارہی ہے، جے رام رمیش نے کہا کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سیٹوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔ یہ تشویش کی بات ہے۔ ابھی یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ابھی مردم شماری ہونا باقی ہے۔ اگلے سال اپریل تک ہمیں مردم شماری کے نتائج معلوم ہوں گے۔ پھریقینی طور پر ایک حد بندی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ریاستیں، خاص طور پر جنوبی ہند کی ریاستوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کے معاملے میں اتنا ذمہ دار اور جوابدہ ہونے کی سزا دی جائے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کیرالہ ہندوستان کی پہلی ریاست ہے جس نے شرح پیدائش کو 2.1 تک کم کرنے کا ہدف حاصل کیا ہے۔ ان کی پالیسی کا مقصد شرح پیدائش کو 2.1 تک کم کرنا تھا۔ اس سطح پر آبادی دو نسلوں کے بعد مستحکم ہونے لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً 40 سال پہلے کی بات ہے۔ کیرالہ 1988 میں 2.1 کی کل شرح پیدائش (ٹی ایف آر) تک پہنچ گئی، ایسا کرنے والی ہندوستان کی پہلی ریاست بن گئی۔ وہیں تمل ناڈو نے 1993 میں یہ کامیابی حاصل کی۔ پھرغیر منقسم آندھرا پردیش نے اسے حاصل کیا، اس کے بعد کرناٹک نے۔ بعد میں ہماچل پردیش اور کچھ دیگر چھوٹی ریاستوں نے بھی اسے حاصل کرلیا۔
Published: undefined
رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کوآپریٹو فیڈرلزم کی بات تو کرتے ہیں لیکن تصادم کی وفاقیت کی مشق کرتے ہیں جس سے طاقت کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے اور ریاستوں کی اہمیت کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنروں کے کام کاج کو دیکھیں۔ وہ بنیادی طور پر مرکزی حکومت، بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ کیرالہ کے گورنر، تمل ناڈو کے گورنر، کرناٹک کے گورنر کو دیکھیں۔ جہاں بھی اپوزیشن کی حکومتیں اقتدار میں ہوتی ہیں، وہاں اسمبلیوں کی جانب سے پاس ہونے والے بلوں کو کس طرح سے ہینڈل کیا جاتا ہے، وہ صدر کی منظوری کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ رمیش نے کہا کہ منریگا کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران نافذ کیے گئے سب سے کامیاب پروگراموں میں سے ایک ہے اور اس کی بحالی کے لیے کانگریس عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined