قومی خبریں

’مہنگائی مین مودی کا قہر جاری ہے‘، آر بی آئی کے ذریعہ ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹ کے اضافہ پر کانگریس کا سخت ردعمل

کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’اب آپ کے ہوم لون، کار لون، پرسنل لون اور بزنس لون کی شرح سود بڑھ جائے گی۔ اب آپ کو زیادہ ای ایم آئی ادا کرنی ہوگی اور قرض چکانے کی مدت بھی بڑھ جائے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے بعد فلوٹنگ شرح سود پر ہوم لون لینے والے صارفین کی قرض کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ مرکزی بینک نے بدھ کو ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد سے بڑھا کر 5.50 فیصد کر دیا ہے۔ اس پر کانگریس نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مرکز کی مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا کہ ’’مہنگائی مین مودی کا قہر جاری ہے، اب عوام کی کمر مزید توڑی جائے گی۔‘‘

کانگریس نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’مودی کی پیدا کردہ مہنگائی پر قابو پانے کے ارادے سے آج آر بی آئی نے ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 5.5 فیصد کر دیا ہے۔ مطلب اب آپ کے ہوم لون، کار لون، پرسنل لون اور بزنس لون کی شرح سود بڑھ جائے گی۔  اب آپ کو زیادہ ای ایم آئی ادا کرنی ہوگی اور قرض چکانے کی مدت بھی بڑھ جائے گی۔‘‘ ساتھ ہی لکھا کہ ’’وعدہ اچھے دنوں کا تھا، لیکن ملے وصولی والے دن۔‘‘

واضح رہے کہ فلوٹنگ ریٹ والے ہوم لون عام طور پر ریپو ریٹ اور مارکیٹ پر مبنی دیگر بنچ مارک سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آر بی آئی کی جانب سے پالیسی شرحوں میں تبدیلی کا ایسے قرضوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ہندوستان میں زیادہ تر خوردہ ہوم لون صارفین فلوٹنگ ریٹ کا انتخاب کرتے ہیں، کیونکہ یہ عام طور پر فکسڈ ریٹ والے قرض کے مقابلے میں 1 سے 2.5 فیصد تک سستا ہوتا ہے۔ دوسری جانب جب آر بی آئی ریپو ریٹ میں اضافہ کرتا ہے تو بینک عام طور پر قرض کی شرحوں میں بھی اضافہ کرتے ہیں اور بڑھی ہوئی لاگت صارفین پر ڈال دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں موجودہ قرض لینے والوں کی یکساں ماہانہ قسطوں (ای ایم آئی) میں اضافہ یا قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی صارف فی الحال 8 فیصد شرح سود پر ہوم لون چکا رہا ہے تو مکمل اثر منتقل ہونے کی صورت میں اس کی شرح سود بڑھ کر تقریباً 8.25 فیصد ہو سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔