
کانگریس لیڈر اجے رائے / آئی اے این ایس
لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر میں اتوار کو منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ریاستی صدر اجے رائے اور آل انڈیا کانگریس کے درج فہرست ذات محکمہ کے چیئرمین آر پی گوتم نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رہنماؤں نے منریگا مزدوروں کی بقیہ ادائیگی اور گورکھپور کے چوری چورا میں مجوزہ پروگرام کی اجازت منسوخ کیے جانے پر حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔
Published: undefined
آر پی گوتم نے الزام عائد کیا کہ وہ گورکھپور کے چوری چورا میں منعقد ہونے والے ’’دلت سمان سمر وہ‘‘ میں شرکت کے لیے لکھنؤ ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والے تھے، لیکن پولیس اہلکاروں نے انہیں ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہی روک دیا۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ ہولی کے پیش نظر پروگرام کی اجازت راتوں رات منسوخ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے باوجود جلسے کو روکنا جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے مسائل اٹھائے جانے سے گھبرا رہی ہے اور تہوار کو بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ریاستی صدر اجے رائے نے منریگا مزدوروں، کارکنوں، مستریوں، سپلائرز اور خواتین میٹ کے واجبات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہولی سے قبل بھی انہیں مزدوری ادا نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر ہنر مند اور ہنر مند مزدوری کے ساتھ ساتھ مواد مد میں تقریباً سولہ سو کروڑ روپے کی رقم زیر التوا ہے۔ ان کے مطابق سال 2021 میں منریگا عملے کے لیے جن تعطیلاتی سہولتوں کا اعلان کیا گیا تھا، ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔
Published: undefined
اجے رائے نے انتباہ دیا کہ اگر دس دن کے اندر ادائیگی نہ کی گئی تو کانگریس ریاست بھر میں تحریک شروع کرے گی۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کو بخوبی سمجھ چکی ہے اور مناسب وقت پر اس کا جواب دیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined