قومی خبریں

مغربی بنگال میں کانگریس کا بی جے پی اور ترنمول کانگریس پر حملہ، ترقی اور روزگار کے مسائل اٹھائے

کانگریس نے مغربی بنگال میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے ترقی، صنعتوں کی بندش اور روزگار کے بحران پر سوال اٹھائے، اور خود کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب</p></div>

تصویر ویڈیو گریب

 

مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے درمیان کانگریس نے ریاست میں ترقی، صنعتوں کی حالت اور روزگار کے مواقع کو لے کر بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں پر سخت تنقید کی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور مغربی بنگال کے انچارج غلام احمد میر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ آج ریاست میں جتنی بھی فیکٹریاں اور کارخانے چل رہے ہیں، وہ کانگریس کی دین ہیں، جبکہ گزشتہ بارہ برسوں میں مرکزی حکومت نے کوئی نیا بڑا منصوبہ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے مغربی بنگال کو نظر انداز کیا ہے اور ترقیاتی کاموں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ ساتھ ہی انہوں نے ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بند پڑی فیکٹریوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، جس کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

Published: undefined

غلام احمد میر کے مطابق اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر نوجوانوں پر پڑا ہے، کیونکہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں روزگار کے لیے دوسری ریاستوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں نے مل کر ریاست کی حالت خراب کر دی ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے موجودہ انتخابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کا انتخاب پہلے جیسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ریاست کا ووٹر اب بیدار ہو چکا ہے اور وہ نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ غلام احمد میر نے یہ بھی کہا کہ مغربی بنگال کی تہذیب اور ثقافت کو محفوظ رکھنے میں کانگریس کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے اور پارٹی آج بھی اسی مشن پر کام کر رہی ہے۔

Published: undefined

انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس اس انتخاب میں تمام نشستوں پر اکیلے میدان میں ہے اور عوام کے سامنے ایک نئے اور سنجیدہ متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود اے آئی سی سی کے انچارج این ایس یو آئی کنہیا کمار نے بھی مرکز اور ریاستی حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نمائشی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم کشتی میں سیر کرتے ہوئے یہ دیکھ رہے تھے کہ اگر حکومت بنی تو کون سی زمین اپنے قریبی افراد کو دی جائے گی۔

کنہیا کمار نے کہا کہ مغربی بنگال میں نہ نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہاوڑہ کی بیشتر فیکٹریوں پر تالے لگے ہوئے ہیں، جو ریاست کی صنعتی زبوں حالی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ترنمول کانگریس کی حکومت نے ریاست کے مستقبل کو نقصان پہنچایا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کانگریس ایک مضبوط اور واضح اپوزیشن کے طور پر موجود ہے اور مغربی بنگال میں بھی پارٹی عوام کے سامنے ایک قابل اعتماد متبادل پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے انتخابی فہرستوں سے نام ہٹائے جانے کے معاملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس مسئلے پر دیگر ریاستوں میں مشترکہ آواز اٹھائی گئی، لیکن مغربی بنگال میں ایسا کوئی متحدہ اقدام دیکھنے کو نہیں ملا۔

کنہیا کمار نے کہا کہ ریاست میں صاف، صحت مند اور ترقی پر مبنی سیاست کی ضرورت ہے اور یہ کردار صرف کانگریس ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں عوام اس متبادل کو ضرور قبول کریں گے اور ریاست میں تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined