قومی خبریں

پی ایم مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان پر کانگریس کا سخت رد عمل آیا سامنے، جئے رام رمیش نے کچھ اہم حقائق رکھے سامنے

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 3-2 برس قبل تک ذات پر مبنی مردم شماری کو ’اربن نکسل‘ کی سوچ قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن ایک برس پہلے حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کے دوران ’دماغی نکسل‘ لفظ کا استعمال کیا۔ کانگریس نے ان کے اس بیان پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ پہلے پی ایم مودی ’اربن نکسل‘ لفظ کا استعمال کرتے تھے، اور اب وہ ’دماغی نکسل‘ کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم جنہیں اربن نکسل کہتے ہیں، انہی کے مطالبات کو بعد میں تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔‘‘

دراصل پی ایم مودی نے آج 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر ملک کے نام اپنے خطاب میں ’دماغی نکسل‘ لفظ کا استعمال کیا۔ اس پر کانگریس رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے انھیں نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’3-2 برس قبل تک وزیر اعظم ’اربن نکسل‘ لفظ کا استعمال کرتے تھے۔ جب پارلیمنٹ میں پوچھا گیا کہ ’اربن نکسل‘ کی تعریف کیا ہے، تو وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اربن نکسل‘ جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی تعریف ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم جن لوگوں کو ’اربن نکسل‘ کہتے تھے، بعد میں انہی کے مطالبات تسلیم کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 3-2 برس قبل تک ذات پر مبنی مردم شماری کو ’اربن نکسل‘ کی سوچ قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن ایک برس پہلے حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا۔ جے رام رمیش نے لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم مودی کے خطاب کو ’سیاسی خطاب‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’وزیر اعظم کے خطاب میں کچھ بھی نیا نہیں تھا، وہ جو دعوے پہلے کیا کرتے تھے، اب بھی وہی دعوے کر رہے ہیں۔‘‘

غور طلب ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ’’کچھ لوگ معاشرے کو غلط سمت میں لے جانے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں اور ایسے عناصر کی نشاندہی ضروری ہے۔‘‘ وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے نکسل ازم کو ختم کرنے کا عزم کیا تھا۔ 21 ویں صدی میں دہائیوں پرانے چیلنجز کو ختم کرنا لازمی ہے۔ نکسل ازم اور ماؤ ازم نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔ کئی ماؤں کے دودھ پیتے نومولود بچے چھین لیے گئے اور والدین کے خوابوں چکنا چور کر دیا گیا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔