
جے رام رمیش / INCIndia@
کانگریس نے قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی) کی نصابی کتابوں میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں کو لے کر قومی سطح پر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو دوبارہ لکھنے کی جو مہم چلائی گئی، وہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ ان کے مطابق اس پورے عمل کے پیچھے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سوچ کارفرما رہی ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں عدلیہ سے متعلق تنقیدی حوالوں پر سپریم کورٹ کی ناراضی بالکل درست ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نصابی مواد میں تبدیلی ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی کوشش کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملے کی جانچ ہونی چاہیے کیونکہ یہ ایک پورا گروہ ہے جو تعلیمی نظام میں مداخلت کر رہا ہے۔
Published: undefined
ادھر سپریم کورٹ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق باب پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس مواد پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے موضوعات کو پیش کرتے وقت احتیاط برتی جانی چاہیے۔ عدالت کی برہمی کے بعد این سی ای آر ٹی نے متعلقہ کتاب کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔‘‘
Published: undefined
بعد ازاں عدالت نے ان کتابوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ تمام چھپی ہوئی نقول ضبط کی جائیں اور ڈیجیٹل نسخے بھی فوری طور پر ہٹا دیے جائیں۔ عدالت نے مرکز اور ریاستی حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس حکم پر فوری عمل کریں، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
متنازع نصاب میں کہا گیا تھا کہ بدعنوانی، مقدمات کا انبار اور ججوں کی کمی عدالتی نظام کو درپیش بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ اسی نکتے پر تنازع کھڑا ہوا اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ اب اس معاملے نے تعلیمی پالیسی اور سیاسی اختلافات کو ایک بار پھر آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined