قومی خبریں

ممبئی: دو طلبہ کی ہلاکت پر ہریش وردھن سپکال کا اظہارِ تشویش، منشیات نیٹ ورک پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

ممبئی میں دو ایم بی اے طلبہ کی منشیات اوورڈوز سے موت کے بعد ہریش وردھن سپکال نے حکومت کو نشانہ بنایا، الزام لگایا کہ منشیات کا نیٹ ورک سرکاری سرپرستی میں چل رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
IANS

ممبئی میں دو ایم بی اے طلبہ کی منشیات کی زیادہ مقدار لینے کے باعث ہلاکت کے واقعے نے ریاستی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ہریش وردھن سپکال نے اس سانحے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی نشہ آور اشیاء کا کاروبار حکومت کی سرپرستی میں فروغ پا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان نسل تیزی سے اس دلدل میں دھنس رہی ہے۔

Published: undefined

یہ واقعہ 11 اپریل کی رات پیش آیا، جب دونوں طلبہ ایک میوزک ایونٹ میں شریک ہوئے تھے۔ الزام ہے کہ اس تقریب میں کھلے عام شراب اور نشہ آور مادوں کا استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے بعد دونوں طلبہ کی حالت بگڑ گئی اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ یہ تقریب گوریگاؤں کے نیسکو کمپلیکس میں منعقد ہوئی، جہاں ہزاروں نوجوان موجود تھے۔

سپکال نے سوال اٹھایا کہ ہزاروں افراد پر مشتمل اس ’ڈرگ پارٹی‘ کی خبر پولیس کو کیوں نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ریاستی نظام کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اور دیگر سرکاری ادارے اس وقت تک خاموش رہے جب تک دو جانیں ضائع نہیں ہو گئیں، اور اب محض دکھاوے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ سپکال کے مطابق ریاست کے مختلف حصوں، جیسے ناسک، چھترپتی سمبھاجی نگر اور سولاپور میں پہلے بھی منشیات سے جڑے معاملات سامنے آ چکے ہیں، لیکن حکومت نے ان سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

کانگریس رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماضی میں ایک نائب وزیر اعلیٰ کے قریبی رشتہ دار کے فارم ہاؤس پر منشیات تیار کرنے والی ایک یونٹ کا پردہ فاش ہوا تھا، مگر اس معاملے کو بھی سنجیدگی سے لینے کے بجائے دبانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں کلین چٹ دینا نہایت تشویشناک ہے۔

Published: undefined

سپکال نے دیویندر فڈنویس کی قیادت والی حکومت سے سوال کیا کہ آخر کتنی اموات کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر منشیات کے اس نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سنگین مسئلے کو اجاگر کرتا ہے کہ بڑے شہروں میں منشیات کا پھیلاؤ کس حد تک خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے مربوط اور سنجیدہ حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined