قومی خبریں

پے ٹی ایم معاملے میں مرکزی حکومت اور جانچ ایجنسیوں کی خاموشی پر کانگریس نے اٹھائے سوال

کانگریس کی لیڈر سپریہ شرینیت کا کہنا ہے کہ جب پے ٹی ایم میں 2017 سے بے ضابطگیاں چل رہی تھیں اور ریزرو بینک نے منی لانڈرنگ کے بھی الزام لگائے ہیں تو پھر اتنی مہلت کیوں دی جا رہی ہے؟

<div class="paragraphs"><p>سپریہ شرینیت / ایکس</p></div>

سپریہ شرینیت / ایکس

 

نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا نے پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کو 29 فروری 2024 کے بعد کام کرنے سے روک دیا ہے۔ اب اس معاملے میں کانگریس نے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے کہا ہے کہ ’’ریزرو بینک نے پے ٹی ایم پیمنٹ بینک پر پابندی لگا دی ہے اور 29 فروری کے بعد اس کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔ ریزرو بینک نے اس پر کئی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اس معاملے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس میں 2017 سے بے ضابطگیاں ہو رہی تھیں۔ جب آر بی آئی نے اس معاملے میں منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے ہیں تو پھر سی بی آئی اس پر خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟‘‘

Published: undefined

سی بی آئی اور ای ڈی کی خاموشی پر یہ سوال سپریا شرینیت نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اٹھایا ہے۔ انھوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’اتنی ساری خلاف ورزیوں کے باوجود پے ٹی ایم کو اتنی مہلت کیوں دی جا رہی ہے؟ منی لانڈرنگ کے الزامات پر ای ڈی نے اب تک کیا کارروائی کی ہے؟ پے ٹی ایم نے بی جے پی اور پی ایم کیئرز فنڈ میں کتنا عطیہ دیا ہے؟‘‘

Published: undefined

کانگریس پارٹی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پریس کانفرنس کی کچھ ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں۔ اس میں سپریا شرینیت کہتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ’’نوٹ بندی کے 2 دن بعد 10 نومبر 2016 کو پے ٹی ایم ملک کے بڑے اخبارات میں پی ایم مودی کی تصویر کے ساتھ مکمل صفحے کا اشتہار دیتا ہے۔ اس اشتہار میں نوٹ بندی کو ایک مضبوط فیصلہ بتاتے ہوئے پی ایم مودی کی تعریف کی گئی تھی۔ وہی پے ٹی ایم پی ایم مودی پر مبنی فلم کے ٹکٹوں پر 200 روپے تک کا کیش بیک دے رہا تھا، جس کا مودی جی انتخابی ریلی میں تشہیر بھی کر رہے تھے۔ پی ایم مودی کے ساتھ سیلفی لینے والے شخص کا نام وجے شیکھر شرما ہے جو پے ٹی ایم کے بانی ہیں۔ جس نوٹ بندی نے معیشت کو تباہ کر دیا، اسی نوٹ بندی کو پے ٹی ایم نے ہمیشہ جشن کی طرح منایا اور اپنا آئی پی او بھی 8 نومبر 2021 کو ہی لانچ کیا۔‘‘

Published: undefined

کانگریس لیڈر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’پے ٹی ایم اور اس کے بانی وجے شیکھر شرما کو منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات خود آر بی آئی نے لگائے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے پے ٹی ایم پیمنٹ بینک پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پی ایم مودی کے انتہائی قریبی وجے شیکھر شرما نے لائسنس ملتے ہی گھپلے کرنا شروع کر دیے، جس کی وجہ سے آر بی آئی نے انہیں بار بار سزا دی۔ اس کے باوجود پی ایم مودی ان کی تشہیر کرتے رہے۔‘‘

Published: undefined

سپریا شرینیت نے اس معاملے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’آر بی آئی نے پیمنٹس بینک کے شیئر ہولڈنگ پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ جس میں تقریباً 49 فیصد حصہ پے ٹی ایم کمپنی کا ہے، جسے لوگ (One97 Communications) کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ جبکہ 51 فیصد حصہ وجے شیکھر شرما کے پاس تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک انسان جس طرح کا چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔ آر بی آئی کی کارروائی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ چینی سرمایہ کاری کمپنی کی زیادہ تر سرمایہ کاری پے ٹی ایم میں تھی۔ پہلے علی بابا اور آج بھی اینٹ گروپ کے پاس تقریباً 10 فیصد شراکت داری ہے۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ ریزرو بینک نے پے ٹی ایم پیمنٹ بینک میں منی لانڈرنگ کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اس میں سیکڑوں کروڑ روپے کے لین دین پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ آر بی آئی نے 29 فروری کے بعد پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کی خدمات پر پابندی لگا دی ہے۔ پے ٹی ایم کی فی الحال ریزرو بینک کے ساتھ بات چیت جار ی ہے اور ریزرو بینک نے بے قاعدگیوں کو دور کرنے کے لیے کہا ہے۔ ریزرو بینک کی اس پابندی کے بعد پے ٹی ایم کے حصص میں 40 فیصد کی کمی آئی ہے۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریزرو بینک کو پے ٹی ایم کے KYC میں کئی بے ضابطگیاں ملی ہیں۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے لاکھوں صارفین کی KYC نہیں کی تھی۔ لاکھوں اکاؤنٹس کی PAN تصدیق نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ پے ٹی ایم پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ریزرو بینک کو کئی بار غلط معلومات دی۔ 31 جنوری 2024 کو ریزرو بینک نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کو نئے کسٹمر بنانے پر پابندی عائد کردی۔ اسی کے اتھ ایک ایکسٹرنل ٹیم سے تمام آڈٹ کرانے کی بھی بات کہی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined