
ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے حد بندی کے معاملے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر خط لکھا ہے۔ کانگریس صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر خط کی کاپی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میں نے وزیر اعظم مودی کو حد بندی، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام میں تاخیر، اور گزشتہ شام مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کی جانب سے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بتائے گئے ممکنہ خصوصی اجلاس کے بارے میں خط لکھا ہے۔‘‘
کھڑگے نے خط میں لکھا کہ ’’میں نے گزشتہ بار آپ کو 16 جولائی کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ حد بندی کے لیے حکومت کی تجاویز پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے۔ میں نے یہ بھی درخواست کی تھی کہ پارلیمنٹ کے کسی خصوصی اجلاس میں ان تجاویز کو پیش کرنے سے پہلے، تمام سیاسی پارٹیوں کو ان کا تفصیل سے مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت دیا جائے۔ میں اب اس درخواست کو دہرانے کے لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور نے کل رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عوامی طور پر کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا ایسا خصوصی اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے مانسون اجلاس کے اختتام میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔“
وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں ملکارجن کھڑگے نے کانگریس کا موقف واضح کرتے ہوئے 3 مطالبات رکھے۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ آئندہ 25 سال تک لوک سبھا کی موجودہ رکن کی تعداد 543 برقرار رکھی جائے۔ دوسرا یہ کہ آئندہ 25 سال تک لوک سبھا میں ریاستوں کے مطابق موجودہ نمائندگی یعنی سیٹوں کی تعداد برقرار رکھی جائے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخاب سے خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن نافذ کیا جائے۔
ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کے اشارے کے مطابق آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ سے اپنی سابقہ درخواست ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ ’’حد بندی سے متعلق حکومت کے ذہن میں موجود تمام تجاویز پر بات چیت کے لیے تمام پارٹیوں کا ایک اجلاس بلایا جائے۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور ریاستی حکومتوں کو ایسی تجاویز کا مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت دیا جائے۔‘‘ خط کے آخر میں کانگریس صدر نے لکھا کہ ’’یہ ملک کے لیے بہت اہم معاملہ ہے۔ براہ کرم 16 اور 17 اپریل 2026 کو کی گئی کوشش کی طرح اسے دوبارہ زبردستی مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ حد بندی کا معاملہ جنوبی ریاستوں میں کافی حساس مانا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ آبادی کی بنیاد پر حد بندی ہونے سے جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی، جنہوں نے آبادی پر قابو پانے کے معاملے میں بہتر کام کیا ہے۔ کانگریس مسلسل آل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔