
تصویر آئی این سی
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہِبی ایڈن نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس کی خاتون اراکین پارلیمنٹ کے پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی (بریچ آف پرولیج) کے معاملے میں نوٹس پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے راہل گاندھی سمیت متعدد اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ دھکا مکی اور بدسلوکی کی۔
لوک سبھا کے جنرل سیکریٹری کو بھیجے گئے اپنے مکتوب میں ہِبی ایڈن نے کہا کہ 21 جولائی کو کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ طلبا اور نوجوانوں کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج ایک روز قبل طلبا کے خلاف پولیس کارروائی اور تعلیمی امتحانات میں سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا، اس کے باوجود پولیس نے راہل گاندھی کے ساتھ "بے رحمانہ دھکا مکی" کی اور انہیں زبردستی حراست میں لے کر دہلی کے چھترسال اسٹیڈیم منتقل کر دیا۔ ایڈن کے مطابق، قائد حزب اختلاف کے ساتھ اس نوعیت کا برتاؤ نہ صرف ان کے پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے بھی منافی ہے۔
ہِبی ایڈن نے اپنے نوٹس میں کہا کہ ملک بھر میں طلبا اور نوجوان کافی عرصے سے سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق راہل گاندھی ان طلبا اور نوجوانوں کی آواز پارلیمنٹ اور سڑک دونوں جگہ بلند کر رہے ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے طلبا کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی اور احتجاج کو دبانے کے لیے 20 جولائی کو دہلی میں طلبا کے مارچ کے دوران پولیس طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ایڈن کے مطابق، 21 جولائی کو راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ انہی معاملات پر احتجاج کر رہے تھے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران خاتون اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بھی دھکا مکی اور بدسلوکی کی گئی، جو خواتین اور سیاسی مخالفین کے تئیں حکومت کے رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور مرکزی حکومت نے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیمنٹ اور خصوصاً خاتون ارکان کے پارلیمانی استحقاق اور پرامن احتجاج کے جمہوری حق کی خلاف ورزی کی ہے۔
ہِبی ایڈن نے لوک سبھا سیکریٹریٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس استحقاق کی خلاف ورزی کے نوٹس کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے مناسب کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ پولیس نے منگل کے روز وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کے دوران راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو حراست میں لے لیا تھا۔ راہل گاندھی کو بعد میں چھترسال اسٹیڈیم منتقل کیا گیا، جہاں سے چند گھنٹوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔