
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا / آئی اے این ایس
کانگریس نے منگل کے روز لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا باضابطہ نوٹس داخل کر دیا، جس کی حمایت 118 ارکانِ پارلیمنٹ نے کی ہے۔ اس اقدام نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے، جو پہلے ہی ایوان کی کارروائی کے طریقۂ کار اور حالیہ واقعات کے باعث تناؤ کا شکار ہے۔ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بتایا کہ دوپہر ایک بج کر 14 منٹ پر قواعد و ضوابط کے ضابطہ 94 سی کے تحت اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس پیش کیا گیا۔
Published: undefined
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منگل کی صبح گیارہ بجے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تھی۔ تاہم، ایوان میں ماحول شروع ہی سے کشیدہ رہا اور اپوزیشن جماعتوں نے واضح اشارے دیے کہ وہ ایوان کے نظم و نسق، حکومتی رویے اور حالیہ دنوں میں ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی جیسے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کریں گی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر کا کردار غیر جانبدار نہیں رہا اور پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب حکومت مرکزی بجٹ 2026-27 پر بحث کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم نظر آتی ہے۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بجٹ پر تفصیلی گفتگو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے اور سیاسی اختلافات کو آڑے نہیں آنا چاہیے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ تجارتی پالیسی، پارلیمانی آچرن اور جمہوری اقدار سے جڑے سوالات کو نظرانداز نہیں کریں گی، جس کے نتیجے میں ایوان میں تیز نوک جھونک اور ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل کو اس تعطل کو ختم کرنے کی کوشش میں سینئر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کانگریس کے کے سی وینوگوپال اور گورو گوگوئی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے رکن ابھیشیک بنرجی اور بی آر ایس کے ٹی آر بالو شریک تھے۔ گفتگو کے دوران اپوزیشن نے کئی مطالبات پر زور دیا، جن میں ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت دینا، معطل ارکان کی بحالی اور خواتین ارکان کے خلاف کی گئی مبینہ قابل اعتراض باتوں کو واپس لینا شامل ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined