
کانگریس نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے اس دعوے پر جوابی حملہ کیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ای-20 کا نفاذ سائنسی ریسرچ کے بعد کیا گیا ہے۔ کانگریس نے پیر کے روز کہا کہ پورے ملک میں ’ای-20‘ پیٹرول کی فروخت کو لے کر ناراضگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام جوابدہی اور شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اہم اپوزیشن پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت کے وزیر لوگوں کو یہ بھروسہ دلانے میں ناکام رہے ہیں کہ ای-20 پیٹرول پوری طرح محفوظ ہے، کیوں کہ اس کی حمایت میں کوئی ٹھوس اعداد و شمار یا رپورٹ دستیاب نہیں ہے۔ ای-20 پیٹرول ایسا ایندھن ہے، جس میں 20 فیصد ایتھنول اور 80 فیصد پیٹرول ملا ہوا ہوتا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’29 جولائی کو پارلیمنٹ میں ای-20 پیٹرول کے ملک گیر نفاذ پر روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ذریعہ دیے گئے جواب سے زیادہ سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘
جئے رام رمیش کے مطابق گڈکری کا دعویٰ ہے کہ ای-20 کو برسوں تک سائنسی ریسرچ کے بعد نافذ کیا گیا ہے اور اس سے گاڑیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ ’’گزشتہ کئی مہینوں سے ملک بھر کے صارفین اور میکینک کم مائلیج، انجن میں پریشانی، گاڑیوں پر ای-20 کے طویل مدتی اثرات، انجن کی ہم آہنگی، ٹھنڈے موسم میں اسٹارٹ ہونے میں دقت، 2023 سے پہلے بنی گاڑیوں میں تیزی سے گراوٹ، پرانی گاڑیوں میں فیول انجیکٹر کا جام ہونا، ایندھن پائپوں میں زنگ لگنا اور ربڑ کے پرزوں میں دراڑ آنے جیسی پریشانیوں کی شکایت کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عام صارفین کے پاس ای-20 ایندھن کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے۔ جے رام رمیش نے دعوی کیا کہ ’’2023 سے قبل بنیں تقریباً 44000 پیٹرول کی گاڑیوں پر جون 2026 میں کیے گئے آزاد سروے کے بعد بڑی تعداد میں گاڑی مالکان نے ای-20 کے منفی اثرات کا اظہار کیا۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ستمبر 2025 میں وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے حیاتیاتی ایندھن کی وجہ سے گاڑی یا انجن کو نقصان پہچنے سے متعلق شکایتوں کو بکواس بتایا تھا۔‘‘ سابق وزیر ماحولیات نے الزام لگایا کہ جولائی 2026 کی ’آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ (اے آر اے آئی) کی رپورٹ کے باوجود مودی حکومت ای-20 سے متعلق دعوے کو مسلسل خارج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیداری کے ٹیسٹ سے مسافر گاڑیوں کے انجنوں میں خرابی کے مسائل بھی سامنے آئے۔ جے رام رمیش نے دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ’’ای-20 سے ایندھن ٹینک اور اندرونی پرزوں میں زنگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’ای-20 کی وجہ سے پرانی 4 پہیہ گاڑیوں کی ایندھن کی کارکردگی میں 6 سے 7 فیصد، پرانی 2 پہیہ گاڑیوں میں 3 سے 4 فیصد اور ای-20 چار پہیہ گاڑیوں میں بھی ایک سے 2 فیصد تک کی کمی آتی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔