
حال کے انتخابات میں ای وی ایم اور وی وی پیٹ پر الیکشن کمیشن کی کافی فضیحت ہوئی تھی اس کے بعد مدھیہ پردیش میں فرضی ووٹر لسٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ ہو گیا ہے۔ کانگریس نے ایم پی کی ووٹ لسٹ میں بے ضابطگی کا الزام عائد کرتے ہوئے 60 لاکھ ووٹروں کے فرضی ہونے کا دعوی کیاہ ے۔
کانگریس نے اس تعلق سے الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے اور پریس کانفرنس کے دوران ثبوت بھی پیش کئے۔ اتوار کو مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ کمل ناتھ اور جیوتیرادیتہ سندھیا نے دہلی میں پریس کانفرنس کی۔ صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ ’’ہم نے 100 اسمبلی حلقوں میں جانچ کرائی ہے جس کے بعد 60 لاکھ ووٹروں کے فرضی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔‘‘
کمل ناتھ نے دعوی کیا کہ مدھیہ پردیش کی آبادی میں 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے لیکن ووٹروں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا گیا ہے۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کو حران کن قرار دیا اور دانشتہ طور پر فرضی ووٹ لسٹ بنائے جانے کا الزام عائد کیا۔
کمل ناتھ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یو پی سے وابستہ ایسے لوگ بھی ان علاقوں میں مقیم ہیں جن کے نام دونوں ریاستوں کی ووٹر لسٹ میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں کئی لوگوں کے نام کئی دیگر فہرستوں میں شامل ہیں۔ کمل ناتھ نے کہا کہ ہم نے نئی ووٹر لسٹ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس نے ایم پی کی ووٹر لسٹ کا مطالعہ کر کے ایک پاور پوائنٹ فائل جاری کی ہے جس میں مختلف قسم کی بے ضابطگیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
کمل ناتھ نے یہ بھی کہا کہ پڑوس کی ریاستون میں بھی ووٹر لسٹ کی جانچ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس معاملہ میں کوئی شکایت نہیں کی ہے کیوں کہ یہ سب انہوں نے ہی کرایا ہے۔
ادھر جیوتیرادتیہ سندھیا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 60 لاکھ فرضی ووٹروں کے ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن سے شکایت کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کانگریس کو لسٹ میں سدھار کا بھروسہ دلایا ہے۔
الیکشن کمیشن کو شکایت سونپتے ہوئے کانگریس یہ مطالبات رکھے:
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔