
جے رام رمیش / آئی اے این ایس
نئی دہلی: کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو ارکانِ پارلیمنٹ، نشی کانت دوبے اور دنیش شرما کی جانب سے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر کی گئی تنقید کے بعد بی جے پی کی جانب سے ان بیانات سے لاتعلقی اختیار کرنے کو محض ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر یہ بیانات پارٹی کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتے تو ان ارکان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟
Published: undefined
کانگریس کے جنرل سیکریٹری (سربراہ شعبہ مواصلات) جے رام رمیش نے سماجی رابطہ پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا، ’’چیف جسٹس آف انڈیا پر بی جے پی کے دو ارکان کی طرف سے کیے گئے قابل اعتراض اور نفرت انگیز ریمارکس پر بی جے پی کے صدر کی جانب سے لاتعلقی اختیار کرنا بے معنی ہے۔ یہ دونوں ارکان پہلے بھی اس قسم کی زبان استعمال کرنے کے لیے بدنام رہے ہیں اور ’جی ٹو‘ کو اکثر ایسے حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’بی جے پی صدر کا وضاحتی بیان محض ڈیمیج کنٹرول ہے، اس سے کسی کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ’اینٹائر پولیٹیکل سائنس‘ نہیں بلکہ ’اینٹائر پولیٹیکل ہپوکریسی‘ ہے۔‘‘
Published: undefined
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے اعلیٰ عہدیدار نے اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے عدلیہ پر کی جانے والی متعدد غیر مناسب اور توہین آمیز ریمارکس پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی ان بیانات کی خاموش حمایت نہیں کر رہے تو ان ارکانِ پارلیمان کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ کیا بی جے پی صدر نڈا نے ان ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے؟
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی رکنِ پارلیمان نشی کانت دوبے نے ہفتے کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر قانون سپریم کورٹ ہی بنائے گی تو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو بند کر دینا چاہیے۔ بعد میں ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت مقننہ کی طاقت کو کم کر رہی ہے اور خود کو پارلیمنٹ سے بالاتر سمجھ رہی ہے۔
اترپردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے بھی اسی قسم کا بیان دیا، جس میں کہا گیا کہ عدالت کو پارلیمنٹ یا صدر کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
Published: undefined
ان بیانات پر بی جے پی نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دونوں ارکان کے خیالات کو ان کے ذاتی خیالات قرار دیا اور کہا کہ پارٹی نہ تو ان سے اتفاق کرتی ہے اور نہ ہی ان کا دفاع کرتی ہے۔ پارٹی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو ایسی بیان بازی سے گریز کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
تاہم کانگریس کا مؤقف ہے کہ صرف بیان سے لاتعلقی ظاہر کرنا کافی نہیں، بلکہ عوام کو واضح پیغام دینے کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined