قومی خبریں

’راجستھان میں ایس آئی آر کے نام پر ووٹر فہرست میں چھیڑ چھاڑ‘، کانگریس کا بی جے پی پر حملہ

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ راجستھان میں ایس آئی آر کے نام پر بی جے پی نے ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر کاٹے۔ جعلی فارم، فیک دستخط اور دباؤ کے ذریعے جمہوری حق کو متاثر کیا گیا

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ پریس بریفنگ میں راجستھان کانگریس کے صدر گووند ڈوٹاسرا اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٹیکارام جولی نے ریاست میں اسپیشل انٹینسِو ریویژن یعنی ایس آئی آر کے عمل پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ دونوں رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے نام پر ووٹروں کی فہرست میں منظم انداز سے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور اس کا مقصد کانگریس کی حمایت کرنے والے ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔

گووند ڈوٹاسرا نے کہا کہ ایس آئی آر کے بعد جو ڈرافٹ لسٹ جاری ہوئی، اس میں 45 لاکھ افراد کو غیر حاضر، منتقل شدہ یا متوفی کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ ان کے مطابق اس فہرست پر اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 جنوری مقرر کی گئی تھی اور 3 جنوری تک پورا نظام معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ 3 جنوری کو بی جے پی کے اعلیٰ تنظیمی عہدیدار کے ریاستی دورے کے بعد صورتحال بدل گئی اور جعلی طریقوں سے ووٹ جوڑنے اور کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

Published: undefined

انہوں نے انتخابی کمیشن کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 17 دسمبر سے 14 جنوری کے درمیان بی جے پی کے بی ایل ایز کے ذریعے سینکڑوں نام جوڑنے اور ہزاروں نام حذف کرنے کی درخواستیں دی گئیں، جبکہ کانگریس کی جانب سے بہت محدود تعداد میں درخواستیں داخل ہوئیں۔ ڈوٹاسرا کے مطابق جھنجھنو، منڈاوا، اُدے پور واٹی اور کھیتڑی جیسے علاقوں میں ایک ہی دن میں ہزاروں فارم جمع کرائے گئے، جو قواعد کے بالکل برخلاف ہے۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ 13 جنوری کو مرکزی وزیر داخلہ کے ریاستی دورے کے بعد نام کاٹنے کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آئی۔ ان کے بقول ہر اسمبلی حلقے میں ہزاروں کمپیوٹرائزڈ فارم پرنٹ کیے گئے، جن پر جعلی دستخط ثبت تھے، اور انہیں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے دفاتر میں جمع کرایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی بی ایل ایز نے میڈیا کے سامنے آ کر تصدیق کی کہ ان کے نام سے جمع کرائے گئے فارم پر ان کے دستخط نہیں ہیں اور متعدد فارم نامکمل تھے۔

Published: undefined

ڈوٹاسرا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے اس پورے معاملے میں انتخابی کمیشن کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کر کے شکایت درج کرائی ہے اور بتایا ہے کہ افسران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ متنازع فارم شامل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کے تحت جن افراد کو اے ایس ڈی میں ڈالا گیا ہے، وہ ثبوت پیش کیے بغیر ووٹ نہیں دے سکیں گے، جو جمہوری عمل کے لیے خطرناک ہے۔

ٹیکارام جولی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر بی جے پی اسی طرح جمہوریت پر حملہ کرتی رہی تو انتخابات کرانے کی ضرورت ہی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے غریبوں کو ووٹ کا حق دیا ہے اور آج اسی حق کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ جولی کے مطابق بی جے پی کے بعض بی ایل ایز نے تحریری طور پر بتایا ہے کہ ان کے نام سے جعلی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔

Published: undefined

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کہیں سے ایس آئی آر کی تاریخ بڑھانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تو پھر تاریخ کیوں بڑھائی گئی، اور سرکاری افسران و ملازمین کو کیوں ڈرایا دھمکایا گیا۔ جولی کا کہنا تھا کہ جن بی ایل ایز نے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کیا، ان کے تبادلے کر دیے گئے، جو بعد میں شکایت پر منسوخ ہوئے۔

ٹیکارام جولی نے مطالبہ کیا کہ راجستھان میں جمع کرائے گئے تمام فارموں کی فورینسک جانچ کرائی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ فارم کہاں چھپے اور کس کے ذریعے دفاتر تک پہنچائے گئے۔ ان کے مطابق کئی معاملات میں ایک ہی بی ایل اے کے نام سے سینکڑوں درخواستیں جمع کرائی گئیں، جبکہ قواعد کے مطابق ایک دن میں دس سے زیادہ فارم جمع نہیں کیے جا سکتے۔

Published: undefined

کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ یہ پورا عمل ایس آئی آر نہیں بلکہ کانگریس ووٹر ریموول ہے اور اس کا مقصد ووٹ چوری کے ذریعے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی اس معاملے کو قانونی سطح پر بھی لے جائے گی اور عوام کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined