قومی خبریں

خواتین ریزرویشن: کانگریس کا مودی حکومت پر یوٹرن لینے کا الزام، خواتین سے معافی کا مطالبہ

کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیر اعظم مودی پر یوٹرن لینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ قدم سیاسی فائدے اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اٹھایا گیا، جبکہ خواتین سے معافی کا مطالبہ بھی کیا گیا

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس DL_AG

کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اس حساس موضوع پر تقریباً ڈھائی برس بعد یوٹرن لیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی کسی اصولی مؤقف کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی مجبوری اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں خواتین ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وزیر اعظم خود کو خواتین ریزرویشن کا سب سے بڑا حامی ظاہر کرنے کے لیے میڈیا میں مضامین لکھ رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

Published: undefined

جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ جب ناری شکتی وندن قانون 2023 میں پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہوا تھا، اس وقت کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 2024 سے نافذ کیا جائے، لیکن حکومت نے اس پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس قانون کو مردم شماری اور حلقہ بندی جیسے عوامل سے جوڑ کر اس کے نفاذ کو غیر ضروری طور پر مؤخر کر دیا۔

کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ حکومت مردم شماری کرانے میں ناکام رہی اور اسے مسلسل ٹالتی رہی، جس کے باعث خواتین ریزرویشن کا معاملہ بھی لٹکا رہا۔ ان کے مطابق، اب جبکہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو جیسے اہم ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں اور حکمراں جماعت کو ممکنہ شکست کا سامنا دکھائی دے رہا ہے، تو حکومت نے اپنا مؤقف بدل لیا ہے۔

Published: undefined

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ یہ یوٹرن اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی واضح منصوبہ ہے اور نہ ہی وہ اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ مشاورت کے لیے تیار رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اپنے اس فیصلے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ان کی پالیسی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ قدم دراصل ان ریاستوں میں خواتین ووٹروں کو لبھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے جہاں دیگر مسائل پر حکمراں جماعت کے پاس کوئی مضبوط بیانیہ نہیں ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ خواتین ریزرویشن صرف ایک قانون سازی کا عمل نہیں بلکہ ملک کی کروڑوں خواتین کی امنگوں کی عکاسی ہے۔ انہوں نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے اس اقدام کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

وزیر اعظم کے مطابق، کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی ترقی سے جڑی ہوتی ہے اور یہی اصول ہندوستانی تہذیبی نظریہ کی بنیاد رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن اس دعوے کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined