قومی خبریں

ہریالی نگل رہا ’کنکریٹ کا جنگل‘، آلودگی کے سبب دہلی میں سانس لینا دشوار، جامعہ کی تحقیق نے خطرے سے خبردار کیا

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وسطی دہلی نے اپنا 73.8 فیصد بہترین ماحولیاتی صحت والا علاقہ کھو دیا ہے، یعنی ہرا بھرا علاقہ سمٹ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

دہلی میں بڑھتا ہوا ’کنکریٹ کا جنگل‘ شہریوں کے لیے سانس لینا محال کر رہا ہے۔ گزشتہ 32 سالوں میں دہلی کے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کے معیار میں بھاری گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وسطی دہلی نے اپنا 73.8 فیصد بہترین ماحولیاتی صحت والا علاقہ کھو دیا ہے، یعنی ہرا بھرا علاقہ سمٹ رہا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق 1991 میں وسطی دہلی میں 13.88 مربع کلومیٹر علاقہ بہترین ماحولیاتی صحت کے زمرے میں تھا، جو 2023 میں گھٹ کر صرف 3.63 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف خراب ماحولیاتی صحت والے علاقوں کا دائرہ 38.57 مربع کلومیٹر سے بڑھ کر 54.90 مربع کلومیٹر ہو گیا ہے۔

Published: undefined

جامعہ کے شعبۂ جغرافیہ اور ماحولیاتی سائنس کے محققین نے اس مطالعے میں 1991، 2001، 2011 اور 2023 کے لینڈ سیٹ سیٹلائٹ کی تصاویر کا تجزیہ کیا۔ تحقیق میں گھنے جنگلات، کھلے سرسبز علاقوں، زرعی اراضی، آبی ذخائر، بنجر زمین اور تعمیراتی علاقوں کی نقشہ سازی کر کے ماحولیاتی صحت کا اندازہ لگایا گیا۔ اس تحقیق کی درستگی 92.2 سے 94.8 فیصد کے درمیان رہی اور اس کی تصدیق پرندوں کی مختلف اقسام کے اعداد و شمار سے بھی کی گئی۔

Published: undefined

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پورے دہلی کے علاقے میں خراب ماحولیاتی صحت والے علاقوں کی توسیع میں 50.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ علاقہ 1991 میں 541.47 مربع کلومیٹر تھا، جو 2023 میں بڑھ کر 816.36 مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے کے دوران دہلی کا ’میڈین ایکو سسٹم ہیلتھ انڈیکس‘ 53 فیصد تک گھٹ گیا ہے، جو شہر کی ماحولیاتی صلاحیت اور قدرتی توازن میں بڑے پیمانے پر گراوٹ کی علامت ہے۔ اس تحقیق کے مطابق شمالی دہلی میں خراب ماحولیاتی صحت والے علاقے دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

Published: undefined

جنوب مغربی دہلی میں ان خراب ماحولیاتی صحت والے علاقوں میں 132 فیصد اور مغربی دہلی میں تقریباً 60 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ مشرقی دہلی، شاہدرہ اور شمال مشرقی دہلی سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل رہے، جہاں سرسبز علاقے (گرین زون) تیزی سے سمٹے اور جمنا کے سیلابی میدانوں کے کٹاؤ کا اثر واضح طور پر دکھائی دیا۔ محققین نے پایا کہ دہلی کے قدرتی مناظر جیسے جنگلات، آبی علاقے، آبی ذخائر اور کھلے سرسبز علاقے 1991 میں شہر کے 49 فیصد حصے پر پھیلے ہوئے تھے۔ یہ حصہ 2001 میں 39 فیصد، 2011 میں 34 فیصد اور 2023 میں گھٹ کر صرف 30 فیصد رہ گیا، یعنی 3 دہائیوں میں دہلی نے اپنے قدرتی زمینی منظرنامے کا تقریباً پانچواں حصہ کھو دیا۔

Published: undefined

تحقیق میں یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ دہلی کی ماحولیاتی لچک کی صلاحیت مسلسل کمزور ہوئی ہے۔ یہ انڈیکس 1991 میں 0.61 تھا، جو 2023 تک گھٹ کر 0.36 رہ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آلودگی، شدید گرمی کا دباؤ اور زمین کے استعمال میں تبدیلی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کی شہر کی قدرتی صلاحیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ حالانکہ جنوبی دہلی میں دہلی رِج اور محفوظ جنگلاتی علاقوں کی موجودگی کی وجہ سے صورتحال نسبتاً بہتر پائی گئی۔ جبکہ نئی دہلی ضلع میں تحفظ اور بحالی کی کوششوں کی وجہ سے کچھ بہتری کے آثار بھی ملے، جہاں 2001 کے بعد بہترین ماحولیاتی صحت والے علاقوں میں جزوی اضافہ درج کیا گیا۔ جامعہ کے نیچرل سائنسز فیکلٹی کے شعبہ جغرافیہ سے پریانکا جھا، پون کمار یادو، محمد سحرک جوائے اور ترونا بنسل، اور انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی فیکلٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس سے اجیت نارائن جھا اس تحقیق میں شامل تھے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined