قومی خبریں

شمالی ہندوستان میں کڑاکے کی سردی جاری، دہلی میں پھر سردی کی لہر چلنے کا امکان

آئی ایم ڈی نے کہا کہ اگلے دو دنوں تک درمیانی سے گھنی دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔ ہفتے کے آخر میں ایک بار پھر سردی کی لہر آئے گی اور درجہ حرارت چار ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے

سردی میں خود کو گرم رکھنے کی کوشش / یو این آئی
سردی میں خود کو گرم رکھنے کی کوشش / یو این آئی 

نئی دہلی: ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے کہا ہے کہ اگلے چار سے پانچ دنوں کے دوران شمال مغربی ہندوستان میں 'گھنی' سے 'بہت گھنی' دھند اور 'سرد دن' کے حالات جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد کچھ راحت کی توقع ہے۔ دہلی میں منگل کو بھی سردی کی لہر جاری رہی، اس دوران ہمالیہ سے ٹھنڈی ہوائیں میدانی علاقوں میں چلیں۔

Published: undefined

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی-این سی آر سمیت جموں کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش اور بہار میں سردی کی لہر جاری ہے۔ دارالحکومت دہلی اور این سی آر میں منگل کو لوگوں کو سردی کے ساتھ ساتھ دھند کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کہرا اور گھنی دھند کی وجہ سے صبح کے وقت کئی مقامات پر حد نگاہ بہت کم تھی۔ جس کی وجہ سے معمولات زندگی کے ساتھ ٹریفک بھی متاثر ہوا۔

Published: undefined

آئی ایم ڈی کے ایک اہلکار نے کہا، ’’دھند اور جزوی طور پر ابر آلود آسمان کی وجہ سے پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور بہار میں سردی کی لہر برقرار ہے۔ دہلی کے کچھ حصوں اور راجستھان اور مدھیہ پردیش کے الگ تھلگ علاقوں میں 'سرد دن' کے حالات دیکھے گئے۔‘‘

Published: undefined

دھند کی وجہ سے ٹرینیں بھی تاخیر سے چل رہی ہیں یا منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دھند کی وجہ سے دہلی جانے والی کم از کم 21 ٹرینیں ڈیڑھ سے پانچ گھنٹے کی تاخیر سے چلیں۔ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہلی میں خراب موسم کی وجہ سے پیر کی رات پانچ پروازوں کا رخ جے پور کی طرف موڑ دیا گیا۔

Published: undefined

دارالحکومت دہلی میں منگل کی شام کم سے کم درجہ حرارت 13 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ نے دارالحکومت دہلی میں بدھ کی صبح درجہ حرارت نو ڈگری سیلسیس کے قریب رہنے کی پیش گوئی کی۔ اتر پردیش کے بیشتر علاقوں میں گھنی دھند اور برفیلی ہواؤں نے نظام زندگی کو متاثر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کم از کم اگلے 48 گھنٹوں تک موسم میں نرمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined